تازہ دودھ میں کیمیکل کی ملاوٹ

مکرمی! آج کل دودھ میں ایسے ایسے کیمیکل شامل کئے جاتے ہیں خدا کی پناہ۔ ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ ایک دکاندار کا مالک دکان سے جھگڑا ہو گیا دو دن دکان بند رہی دودھ کا کنٹینر/ گاڑی دو دن کھڑی رہی دودھ پھر بھی خراب نہ ہوا۔ اس کے علاوہ بند دودھ میں بھی مضر صحت کیمیکل کی شنید ہے اس بارے میں اعلیٰ عدالتیں ملٹی نیشنل کمپنیوں سے معلومات طلب کرے۔ اب گرمیاں آ رہی ہیں اب دودھ، دہی کی قیمتیں بغیر کسی اتھارٹی کے بڑھ جائیں گی۔ اہم بات نوٹ کرنے والی یہ ہے کہ گھروں میں دودھ تقسیم کرنے والے گوالوں کا پیمانہ کم ہوتا ہے جب گوالے سے کہا پیپسی کی خالی بوتل میں ڈیڑھ لیٹر دودھ ڈال دے تو اس نے انکار کر دیا جب بعد میں خود اس کی پیمائش کی گئی تو دودھ کم تھا ہمیں پتہ چلا ہے کہ 800/900 ملی میٹر گرام کا پیمانہ دودھ کی پیمائش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اسے کسی اتھارٹی نے منظور بھی نہیں کیا ہوتا۔ اعلیٰ عدالتیں خصوصاً پنجاب حکومت کو اس بات کا پابند کرے کہ گوالوں کے پاس منظور شدہ ایک لٹر کا چیک کر کے شہر کے اندر داخل ہو جب اتھارٹی دودھ کے سمپل لیتی ہے تو پیمانہ بھی چیک کرے۔
(ناصر لاہور)