ایجوکیٹرز اور AE0s کی بھرتیوں میں بے ضابطگیاں

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
ایجوکیٹرز اور AE0s کی بھرتیوں میں بے ضابطگیاں

مکرمی! محکمہ تعلیم پنجاب کی ایجوکیٹرز اور اسسٹنٹ آفیسرAeosکی پنجاب بھرمیں تقریباً 77ہزار آسامیوں کے اعلان کے بعد ان آسامیوں کے اعلان کے بعد ان آسامیوں پر بھرتی کیلئے ریکروٹمنٹ پالیسی 2016-17 جاری کی گئی تھی۔ منتخب شدہ امیدواران کو آرڈرز جاری کئے گئے۔ بعدازاں ایجوکیٹرز کو ایک ماہ اور Aoesکو دوماہ کی ٹریننگ شروع کروادی گئی۔ سروس قوانین اور ریکروٹمنٹ پالیسی 2016-17 کے مطابق ضلع ساہیوال کے علاوہ پنجاب کے باقی 35 اضلاع میں جوائننگ لینے کے بعد ٹریننگ شروع کروائی گئی، ضلع ساہیوال کے چیف ایگزیکیٹوآفیسر (ceo) ایجوکیشن نے سروس قوانین اور ریکروٹمنٹ پالیسی 2016-17 کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پنجاب کے 35 اضلاع کے برعکس سیکرٹری ایجوکیشن کی جاری کردہ پالیسی میں دئیے گئے Letter of Agreement میں غیرقانونی طور پر اور بغیرکسی قانونی جواز کے ٹریننگ کے بعد جوا ئننگ لینے کے الفاظ کا اضافہ کردیااور ان اضافی الفاظ پر اعتراض پر امیدواروں کو جاب سے فارغ کرنے کی دھمکیاں دے کر ان سے زبردستی ceo ایجوکیشن ساہیوال کے غیرقانونی طور پر ترمیم شدہ لیٹرآف ایگریمنٹ پر سائن کروائے گئے۔اس کے باعث تقریباً 1673ایجوکیٹرز اور Aeosکو 4کروڑ 67لاکھ روپے کے مالی نقصان اور دوسرے محکموں سے آنے امیدواران کو مالی نقصان کے علاوہ پچھلی سروس کے ضائع ہونے اور سروس بریک جیسے ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس سلسلے میں ceo ایجوکیشن ساہیوال کو بہت سی تحریری درخواستیں دی گئیں مگرانہوں نے ٹریننگ پیریڈ کو سروس کا حصہ ماننے اور اس پیریڈ کی تنخواہ دینے سے صاف انکارکردیا۔خادم اعلیٰ پنجاب سے استدعا ہے کہ معاملہ کی تحقیقات کروائیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دیں۔

(افراسیاب قیصرچک نمبر 38/12./1 چیچہ وطنی)