پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی قیمتی مشینری گوداموں میں کیوں؟

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی قیمتی مشینری گوداموں میں کیوں؟

مکرمی! روزنامہ نوائے وقت کے فاضل کالم نگار نصرت جاوید نے گزشتہ دنوں اپنے ایک کالم میں ٹیکسٹائل کی صنعت کی حالت زار پر بھرپور تبصرہ کیا تھا۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور کپاس اس کی شہ رگ ہے لیکن حکومت اس شعبہ کو مسلسل نظر انداز کرتی چلی آ رہی ہے۔ ہمارے ایک سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے کراچی میں پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی اور پاکستان انسٹیٹیوٹ کاٹن ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی کی وسیچ و عریض شاندار بلڈنگ منہدم کرکے خالی پلاٹ امریکہ کو بیچ دیا۔ بلڈنگ منہدم کرنے کے بعد قیمتی مشینری اور آلات کراچی کے گوداموں میں پھنکوا دیئے گئے ان میں ایک پوری ٹیکسٹائل مل اور70،60ٹن کا ایئر کنڈیشننگ پلانٹ اور دیگرقیمتی سامان شامل ہے جو برسوں سے کراچی کی مرطوب آب و ہوا میں پڑا ہے۔ اسے کسی محفوظ مقام پر شفٹ نہیں کیا گیا جس کی لاگت آج کئی سو لاکھ ہو گی۔ کاٹن کمیٹی ان گوداموں کا لاکھوں روپے ماہانہ کرایہ دے رہی ہے۔ آخر کیوں؟ آپ کے موقر روزنامہ کی وساطت سے درخواست ہے کہ معزز سپریم کورٹ کاٹن کمیٹی کے دفتر کی فروخت ، وفاقی حکومت 100کروڑ کے آلات و مشینری کا گوداموں میں پھینکوانے کا نوٹس لیں اور تحقیق کی جائے کہ یہ قیمتی آلات اور مشینری آج دس سال سے گوداموں میں کیوں پڑی ہے۔ ایک ہائی پاور کمیشن بنایا جائے جو کاٹن ریسرچ اور خصوصاً کاٹن کمیٹی کا ٹیکنیکل آڈٹ کر کے اصل صورت حال سامنے لائے۔

(میاں افتخارافضل، کراچی)