عوام دوست جمہوریت ہی اصل جمہوریت ہوتی ہے

مکرمی! ملک اور ریاست کا انتظام کیسے چلایا جاتا ہے؟ کون لوگ حکمران بننے کے اہل یا لائق ہوتے ہےں؟ نظام حکومت کے طور پر جمہوریت مےں اہم کردار کس کا ہوتا ہے اور جمہوریت کو ایک ثمر آور شجر کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ یہ ایسے سوالات ہےں جن کا جواب موجودہ ملکی تناظر مےں دیا جانا بہت ضروری ہے۔ ملک اور ریاست کا نظام چلانے کےلئے بہترین، قابل، بہادر اور ایماندار منتظم کا ہونا لازم ہے جس طرح ایک کمپنی بہترین اور لائق منتظم یا مینجر کی غیر موجودگی مےں زوال پذیر ہو کر دیوالیہ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر اس ملک مےں نظام یا طرز حکومت کے لئے جمہوریت کا انتخاب کیا جاتا ہے تو محض نام نہاد، جعلی اور ایلیٹ کلاس کی خواہشوں کے مطابق جمہوریت اس ملک اور اس کے عوام کے لئے فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتی۔ جمہوریت کا دوسرا نام اکثریت یا عوام ہےں، عوام کے مسائل کے حل، ان کی رائے خواہش اور مرضی کا احترام اور اس ملک اور عوام کے مفادات کا تحفظ کرنے والی جمہوریت ہی اصلی جمہوریت کہلانے کی مستحق ہوتی ہے اس کے برعکس جو طرز حکومت نام کا جمہوری ہو مگر حاکم اور سیاستدانوں و رہنماﺅں کے رویے آمرانہ اور بادشاہانہ ہوں اور چند افراد کی مرضی اور خواہشوں کو کروڑوں افراد کی رائے پر ترجیح دی جائے، اس دوران عوام کے مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھنے لگے، ملکی سلامتی داﺅ پر لگ جائے اور دشمن اپنے مقاصد مےں کامیاب ہونے لگیں تو یہ ایک جعلی، ناکام اور کمزور جمہوریت کی نشانیاں ہےں اور ایسی حکومت زوال پذیر ہوتی ہے۔ شیر سلطان ملک۔ (ماڈل ٹاﺅن لاہور 0302-4127273)