خادم اعلیٰ پنجاب کی خدمت میں

مکرمی! پنجاب پولیس آجکل سرکاری دفاتر، مسجدوں، مزاروں اور عدلیہ کے دروازوں پر اپنی غلطیوں کوتاہیوں اور اختیارات سے تجاوز پر طلب ہونے پر کھڑی رہتی ہے بقایا وی آئی پی ڈیوٹی کرتی ہے عوام کو کہا جاتا ہے کہ گورنمنٹ وقت کا ساتھ دو اپنی حفاظت خود کرو ڈنڈوں سے اضلاع مےں تھانہ کا SHO امن و امان کا ذمہ دار ہوتا ہے جرائم بڑھنے پر SHO اسلحہ لائسنس امن کا ضامن ہوتا ہے لائسنس صرف SHO علاقہ کی سفارش پر محدود تعداد کی پابندی ختم کرتے ہوئے ہر شریف آدمی کو جاری کئے جائیں تاکہ عوام چوری و ڈکیتی و دہشت گردی مےں اپنا حصہ ڈال کر امن قائم کرنے مےں گورنمنٹ وقت کی امداد کریں۔ گاﺅں مےں چوکیدار آج بھی گورنمنٹ وقت کے حکم کے مطابق ٹھیکری پہرہ لگاتے ہےں اور جدید ناجائز اسلحہ سے مسلح چوروں ڈاکوﺅں کا مقابلہ لاٹھی سے کرنے پر مجبور ہےں، اگر کہیں واردات ہو جائے تو موقع پر امن و امان کا ذمہ دار SHO جاتا ہے موقع پر چوکیدار و اہل گاﺅں اپنی لاٹھیوں اور ڈاکو کا جدید اسلحہ کا رونا روتے ہےں۔ SHO خود ترغیب دیتا ہے کہ گورنمنٹ وقت کی پالیسی غلط ہے آپ چوروں ڈاکوﺅں کے مقابلہ کےلئے اپنے بندوبست پر ناجائز اسلحہ سے دفاع کرےں پولیس نہیں پوچھے گی۔( حاجی علی احمد خان قائم خانی، 36/2-L اوکاڑہ وارنٹ آفیسر ریٹائرڈ PAF موبائل: 0300-7530373)