خادم اعلیٰ پنجاب ماڈل ٹاﺅن سرگودھا کی خبر لیں

مکرمی! خادم اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی طرف سے عوام کےلئے نئی رہائشی کالونیوں کا منصوبہ قابل تحسین ہے البتہ ہم ان کی توجہ آج سے تقریباً 20برس قبل 1991ءمےں سرگودھا امپرومنٹ ٹرسٹ سرگودھا کے عوام کےلئے شروع کئے گئے رہائشی منصوبے ماڈل ٹاﺅن سرگودھا کی طرف دلانا چاہتے ہےں جس کا چارج آغاز سے اب تک ڈپٹی کمشنر سرگودھا، ڈی سی او سرگودھا اور تحصیل ناظم سرگودھا کے پاس رہا ہے۔ ماڈل ٹاﺅن سرگودھا مےں کئی سو پلاٹ بنائے گئے اور 1993ءسے 2001ءکے درمیان عوام سے الاٹ شدہ پلاٹوں کی قیمت، ترقیاتی چارجز اور سوئی گیس چارجز کے نام پر کروڑوں روپے وصول کئے گئے، مبینہ طور پر وصول کردہ رقم کا ایک بڑا حصہ سرگودھا امپرومنٹ ٹرسٹ کے ایک دوسرے پروجیکٹ، امپرومنٹ ٹرسٹ پلازہ پر خرچ کر دیا گیا اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ جس سے ماڈل ٹاﺅن سرگودھا کے لئے جگہ حاصل کی گئی تھی اسے زمین کی پوری قیمت نہ دی گئی، امپرومنٹ ٹرسٹ سرگودھا اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ یعنی دونوں سرکاری یا نیم سرکاری اداروں کے درمیان آپس کے لین دین کے مسئلہ کی وجہ سے ٹرسٹ کے ملازمین اور دوسرے لوگوں کے وارے نیارے کسی نے محاسبہ نہ کیا اور اس کی سزا سرگودھا ڈویژن کے ان بے شمار گھرانوں کو مل رہی ہے جو اپنی جمع پونجی جمع کروا کر کئی برسوں سے الاٹمنٹ لیٹر لئے بیٹھے ہےں۔ عملی طور پر ماڈل ٹاﺅن سرگودھا مےں سڑکیں بھی بنی ہےں، بجلی کے کھمبے بھی گڑے ہےں لیکن موقع پر بربادی کا منظر ہے، نہ کسی کو قبضہ دیا گیا ہے نہ کوئی مکان بن سکا ہے، خادم اعلیٰ پنجاب اس معاملے مےں پوری توجہ دے کر ہزاروں گھرانوں کا دل جیت سکتے ہےں۔ ہم گزارش کرتے ہےں کہ ماڈل ٹاﺅن سرگودھا کو فوری طور پر آباد کرنے کے اقدامات کرائے جائیں اور سکیم کو برباد کرنے والے ذمہ دار لوگوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔ (ایم بی بیدار سرمدی، -175 سرتاجپورہ سکیم لاہور۔ )