ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
  ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو

مکرمی! ہم خاکی انسان ہیں اور خاک سے وابستگی ہماری سر شت میں شامل ہے زندگی کا حسن خاک اور زمیں سے مستعار ہے شمس و قمر کی رعنائیاں لالہ و گل کی لب کشائیاں فکر و خیال کی پیما ئیاں اسی خاک کا کرشمہ ہے اور خاک بھی وہ جسے ہم اپنا وطن کہتے ہیں یہ اپنے وطن کی کشش تھی کہ لوگوں نے اپنی اولاد جان مال اور عزت کی قربانی دی۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ قائد اعظم کی وفات سے آج تک پاکستان کو کئی اچھا لیڈر نہیں مل سکا چائنہ نے ہمارے بعد آذادی حاصل کی اور آج بامِ عروج پر ہے جبکہ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ہم ابھی تک ترقی پذیر ہیں وجہ صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ اچھے رہنماوئں کی کمی ہے یہی وجہ ہے کہ اب دشمنی کے لیے ہمیں باہر کے لوگوں کی ضرورت نہیں پڑتی اس کے لیے ہمارے خودغرض کرپٹ لوٹے سیاستدان ہی کافی ہیں پاکستان بننے کے بعد سے اب تک کبھی اس پر آرمی نے شبخوں مارا تو کبھی سیاست دانوں نے اسے دو ٹکڑے کئے نہ ہندو نہ انگریز یہ بنگالی مسلمان اور پا کستانی مسلمان تھے جو خودغرض سیاستدانوں کے ہاتھوں کھلونا بنے اور یہ ملک دو لخت ہو گیا نتیجہ کیا ہوا ملک کی حکمرانی کسی کو نصیب نہ ہوئی ایک پھانسی چڑھ گیا اور دوسرا بھی بنگال کو تباہ کر گیا اسی طرح جمہوریت کے نام کروڑوں روپے لگا کر کئی دفعہ الیکشن ہوئے حکومتیں بنی اور ایک دوسرے کو گو ،گو کہہ کر آرمی کو آنے کا موقع دیا گیا۔ابھی وقت ہے عوام کے پاس کہ شغل میلہ چھوڑیں اور اس اہم وقت میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبوں کی تقسیم دھاندلی جیسی غیراہم باتوں کی بجائے اپنے اتحاد اور اتفاق کو مضبوط کریں کیونکہ ایسے حالات کا فائدہ اغیار بھی اُٹھا سکتے ہیں  (ریحانہ سعیدہ گڑھی شاہو لاہور )