طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنے تعلیمات اسلام کے تناظر میں

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنے تعلیمات اسلام کے تناظر میں

مکرمی! پیغمبر اسلامؐ کا فرمان عالیشان ہے کہ ’’اس قوم کی دعا قبول نہیں ہوتی جس کی عورتیں جھانجن پہنتی ہوں‘‘ لیکن افسوس صد افسوس کہ انقلاب اور تبدیلی کے نام پر جناب طاہر القادری اور عمران کی جانب سے شاہراہ دستور پر دیے جانے والوں دھرنوں میں رقص و سرور کی ایسی محفلیں سجائی جا رہی ہیں جس میں نوجوان بچوں اور بچیوں کے علاوہ دونوں جماعتوں کے کئی سر کردہ عہدیدار بھی ناچنے گانے میں مصروف ہیں جو کہ سراسر غیر شرعی عمل ہے مزید برآں ان دھرنوں کے سبب نہ صرف اسلام آباد میں بسنے والے عام شہریوں کی زندگی بھی اجیرن ہوگئی ہے۔ بلکہ مملکت خداداد کے آئینی و انتظامی اور داخلی و خارجی معاملات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور عالمی سطح پر بھی ہمارا امیج خراب ہو رہا ہے لیکن ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ہماری بعض مذہبی و سیاسی جماعتیں طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنوں میں جاری محافل موسیقی کی مذمت کرنے کی بجائے صرف اور صرف دونوں انقلابی حضران کے مطالبات کو آئنی اور جائز قرار دینے پر ہی اکتفا کر رہی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور انقلابی حضرات اپنے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی فرمائیں۔(وحید مراد استاد گورنمنٹ اصلاح معاشرہ، ہائی سکول نیو شاد باغ لاہور)