انسانی سمگلنگ.... ایک ناقابل معافی جرم

مکرمی! انسانی سمگلنگ کے حوالے سے ناخوشگوار خبریں اوراطلاعات آئے روز اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ بہترین اور اچھا روز گار‘خوشحال طرز زندگی کے سہانے اور سبز باغ دکھانے کے ذریعہ بھاری رقوم بٹورنے اور معصوم اور غریب لوگوں کی ساری زندگی کی جمع پونجی چھیننے اور انہیں غیر قانونی طریقے سے دوسرے ملکوں میں پہنچانے کے مذموم دھندے میں مصروف انسانی سمگلروں کا گروہ تقریباً پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ انسانی سمگلر کسی طور پر بھی معاشرے میں باعزت مقام اور کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور کسی طور پر بھی ایسے سمگلروں کو محب وطن نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ لوگ معاشرہ اور انسانیت کے دشمن ہیں۔ وطن عزیز کے کئی مخصوص علاقے ان انسانی سمگلروں کی مستقل آماجگاہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز بن چکے ہیں۔ ان انسانیت کے دشمنوں کے ذریعہ ”انسانی سمگلنگ“ کا مکروہ دھندہ پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنے عروج پر ہے اور کوئی بھی حکومت انسانیت کے ان دشمنوں کا نیٹ ورک توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ انسانی سمگلروں کا یہ نیٹ ورک بیرونی ممالک تک پھیلا ہو اہے اور سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس گھناﺅنے کاروبار میں وطن عزیز کے کئی ٹریول ایجنٹ بھی ملوث ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی سمگلنگ کے گھناﺅنے کاروبار کی روک تھام کیلئے وطن عزیز میں بے روز گاری کے خاتمہ کیلئے ٹھوس موثر اور مستقل بنیادوں پر منصوبہ بندی کی جائے اور روز گار کے بہتر مواقع پیدا کئے جائیں اور انسانی سمگلروں کی مذموم اور گھناﺅنی سرگرمیوں سے عوام الناس کو باخبر‘ آگاہ اور شعور اجاگر کرنے کیلئے پورے ملک کی سطح پر ایک موثر اور تشہیری مہم چلائی جائے اور انسانی سمگلنگ کے اس گھناﺅنے کاروبار میں ملوث افراد کو کڑی سے کڑی اور عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔ (شہزاد احمد‘لاہور)