کرپشن کا جدید ترین فارمولہ / طریقہ ؟

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی ! ہر امیر غریب بلکہ تمام مسلمانوں کی اولین خواہش ہوتی ہے کہ اپنی زندگی میں حج یا عمرہ کر لیں اور اس میں امیر آدمی تو یقیناً کامیاب ہو جاتا ہے۔ رہا سوال غریب آدمی کا تو اسکی بھی شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ حج یا عمرہ کرے اور اس کیلئے وہ محنت مزدوری اور کفایت شعاری کر کے اپنی اس خواہش کو بھی پورا کر لیتا ہے البتہ ”بھیک“ مانگ کر عمرہ کرنے کا فلسفہ میری سمجھ سے بالاتر ہے، ہاں اگر اسکی نیت میں واقعی خلوص ہے اور وہ اسکی طاقت نہیں رکھتا تب بھی اللہ اس کو عمرہ کا ثواب دیدے گا البتہ کوئی غنی شخص اپنے طور پر واقعی کسی مستحق کو عمرہ یا حج کروا دے تو یہ اسکا ایک بہترین عمل اور عظیم کارنامہ ہو گا۔ مہنگائی کے اس ظالم دور میں اگر کسی غریب کے پاس دنیاوی ضرورتوں کے بعد 50 ہزار روپیہ ہے تو غریب کیسا؟ یہاں تو متوسط طبقہ کے بھی اکثر لوگ 50 ہزار کی رقم کو ترستے ہیں۔ اللہ کا واضح فرمان ہے کہ حج ہر اُس مسلمان پر زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے جو اپنی ضروریات زندگی پورا کرنے کے بعد بآسانی حج کر سکے۔ ایسا حکم کہیں بھی نہیں کہ خواہ تمہیں بھیک مانگنی پڑ ے بھیک مانگ کر عمرہ یا حج کرو۔ (عبدالقیوم ۔ مغل پورہ لاہور)