پروفیسر حمید کوثر کی 9ویں برسی کے موقع پر

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

5جولائی کو ممتاز شاعرہ ادیب، سکالر اور استاد پروفیسر حمید کوثر کی 9ویں برسی ہے۔ پروفیسر حمید کوثر صاحب اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں میرے اردو کے پروفیسر تھے۔ انکے پڑھانے کا انداز انتہائی دلنشین تھا۔ کالج میگزین ”کریسنٹ“ کا میں مدیر تھا۔ میں ہر شمارے کےلئے خاص طور پر ان سے مضمون لکھوا کے شائع کرتا۔ کالج سے فراغت کے بعد بھی پروفیسر صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پروفیسر حمید کوثر کے اکلوتے صاحبزادے مجید غنی اپنے عظیم والد کی یادوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ پروفیسر حمید کوثر 2مئی 1931ءکو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ اور 5جولائی 2004ءکو وفات پا گئے۔ اس طرح انہوں نے 73برس کی عمر پائی۔ انکی تدفین قبرستان نزد صدربازار چھاﺅنی میں ہے۔ انکی شعری کتب میں یہ شامل ہیں۔ سردلبراں(غزل، نظم) دبستان (غزل، نظم) سچا افسانہ (منظومات) نظریہ پاکستان (طویل نظم) نثری کتب میں فاتح لکشمی پور(سوانح میجر طفیل شہید) ایجادات کی کہانی اور Tales of unrest کا اردو ترجمہ شامل ہیں۔ آخری دنوں میں شاہنامہ اسلام (جلد پنجم) پر کام کر رہے تھے لیکن عمر نے وفا نہ کی۔ اردو کے علاوہ آپ نے پنجابی زبان میں بھی شعر کہے۔ وطن عزیز پاکستان اور نظریہ پاکستان سے گہری وابستگی انکا طرئہ امتیاز تھا۔ اس سلسلے میں وہ کسی مصلحت پسندی کے قائل نہ تھے۔ انکی اس محبت کا اظہار ان کی شاعری میں جا بجا ملتا ہے۔(تنویر ظہور)