قومی کشتی کے سوراخ بند کرو

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی ! قومی کشتی ڈوبنے سے بچانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ پندرہ بیس سال پہلے قومی اسمبلی میں وزراءکا اپنے محکموں کے بارے اعتراضات اور سوالات کے جوابات کا عمل یاد آ گیا۔ میں چیف انجینئر واپڈا کی حیثیت میں لکھے جواب سمیت وہاں سیکرٹریٹ میں حاضر ہونے کا پابند تھا کہ جیسے وزیر صاحب لکھی چیز پڑھنے کے نااہل ہوں۔ اس احتیاط کی افادیت کبھی ہوئی بھی نہ۔ مجھ جیسے کئی افسران پر یہ پابندی تھی اور ان کے ٹی اے/ ڈی اے وغیرہ کا قومی خزانے پر بوجھ تھا۔ یہ سب تن آسانی روا تھی بوجہ بیرونی امداد اور قرضے کے۔ اب فون، فیکس اور ای میل وغیرہ ہاتھ کے ہاتھ معلومات کی ضرورت پوری کرتے ہیں تو پچھلی جہالت یا عیاشی کو خیرباد کہا جائے۔ گڈ گورننس کو اسلام آباد سیکرٹریٹ میں پہلے رائج کیا جائے۔ یہ ہماری کشتی کا ایک چھوٹا سا سوراخ بند کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے باقی ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین بھی ایسے سوراخوں کی نشاندہی کریں تو قطرہ قطرہ دریا بن سکتا ہے۔ قابلیت اور ایمانداری دونوں کا راج نہ ہوا تو ہمیں کسی کی دشمنی کی محتاجی نہ ہو گی کہ اس میں خودکفیل ہوں گے۔ (معین الحق ۔ 266-P ماڈل ٹاﺅن لاہور)