سمن آباد---- اور ”ثمن“

مکرمی! محترم ریاض الرحمن ساغر نے اے حمید مرحوم پر اپنی نظم میں سمن آباد کو ”ثمن آباد“ لکھا ہے۔ اسے پڑھ کر رانا ریاض احمد (ساہیوال) کا یہ خیال درست نہیں کہ ”ثمن“ فارسی لفظ ہے جس کے معنی ”پھول“ ہیں۔ رانا صاحب کی اطلاع کےلئے عرض ہے کہ ”سمن آباد“ کو خواہ مخواہ ”ثمن آباد“ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ”سمن “ فارسی لفظ یاسمین (چنبیلی کا پھول) کا مخفف ہے۔ اسے ”یاسمن“ بھی لکھا جاتا ہے اور اس کی انگریزی شکل Jasmine ہے۔ ”سمن“ سے فارسی ترکیب سمن بر (بمعنی حسین) ہے۔ باقی رہا”ثمن“ تو یہ فارسی نہیں عربی لفظ ہے اور اس کے معنی ”قیمت“ کے ہیں۔ قرآن مجید میں ثَمَن بَخس (حقیر سی قیمت) اور ثَمَنًا قلیلاً (تھوڑی قیمت) کے الفاظ اس کا بین ثبوت ہیں۔ یاد رہے ایک زمانے میں سمن آباد چوٹی کے اہل علم اور ادیبوں کا مرکز تھا مثلاً سید وقار عظیم، مرزا مقبول بیگ بدخشانی، قیوم نظر، اثر صہبائی، ڈاکٹر محمد شجاع ناموس، اے حمید، میاں عبدالرشید، ڈاکٹر عبادت بریلوی، ڈاکٹر اقتدا حسن، الطاف حسن قریشی۔ ان لوگوں نے اس کا نام سمن آباد ٹھیک ہی رکھا تھا۔
(محسن فارانی، دارالسلام، لاہور فون =37531107)