احتیاط کیجئے!

مکرمی! 26 جون 2011ءکی شب ایک مقامی ٹی وی چینل (وقت ”نہیں“) ہفتہ وار ایک کامیڈی پروگرام ٹیلی کاسٹ ہوا، جس میں اینکر صاحب نے حسب معمول طنز و مزاح کے ماحول میں کچھ ادبی، سیاسی اور تاریخی موضوعات کی رنگ آمیزی کے ساتھ ناظرین کو محفوظ کرتے ہوئے اپنے تئیں چند افادی پہلوﺅں کو بھی اجاگر کیا۔ ایک موقعہ پر انہوں نے سبکتگین سے منسوب وہ مشہور واقعہ بیان کیا جس میں وہ شکار کے دوران ایک ہرن بچے کو اٹھا کر گھوڑے پر سوار چل دیتا ہے۔ بچے کی ہرنی ماں پیچھے پیچھے دوڑتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر سبکتگین کو رحم آ جاتا ہے اور وہ بچے کو چھوڑ دیتا ہے۔ سبکنگین کو خواب میں رسول اللہ کی بشارت ہوتی ہے کہ اس کی اس نیکی پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے بادشاہت عطا کی جاتی ہے محترم اینکر صاحب نے اس واقعہ کو خرافات اور دیومالائی قصہ سے تعبیر کیا ہے میری گزارش ہے کہ اس نوعیت کے بے شمار حکایتیں ہماری تاریخی اور تدریسی کتب کے علاوہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہوئے ہماری عمومی زندگی کے خدوخال کو درست رکھنے میں اپنا حصہ اثر قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اینکر صاحب کو مذہبی اور اخلاقی ہمہ گیری میں اگر کسی واقعہ، حکایت یا روایت سے اختلاف رائے ہے تو وہ اپنی جگہ لیکن اسے مفروضہ، خرافات یا دیومالائی قرار دینا کوئی احسن بات نہیں۔
(خواجہ محمد یونس گڑھی شاہو، لاہور)