قائداعظمؒ جعلی ڈگری ہولڈر بھی نہ تھے

مکرمی! قائداعظمؒ روایتی انداز میں تو گریجوایٹ نہ تھے مگر اس زمانے میں اعلیٰ تعلیم کیلئے جو تعلیمی معیار بنیاد تھا۔ اس پر ضرور پورا اترتے تھے۔ انہوں نے بیرسٹری کی ڈگری اپنی محنت سے حاصل کی تھی۔ کسی جعلسازی کی طرح ”بار ایٹ لائ“ یا ”ڈاکٹریٹ“ کا جعلی دم چھلا لگا کر اپنا قد مصنوعی طریقے سے بڑھانے کی کوشش نہ کی تھی۔ حیرت ہے ایسے بندوں پہ جو بجائے اس کے کہ اپنے ماضی کی کسی غلطی پر شرمندگی محسوس کریں۔ الٹا انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے اور اپنے ہی جیسے دوسرے ساتھیوں کے غلط اور سیاہ کارناموں کے تحفظ کیلئے میدان میں اتر آئے ہیں۔ جو کہ ویسے ہی انسانیت سے گری بات ہے۔ ملک و ملت کی یہ کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ اس کے حکمران سارے کام چھوڑ کر یہی نعرہ زن ہیں کہ ”قومی وقار اور عزت و آبرو داو پہ بیشک لگتی ہے تو لگاو۔ صرف ہمیں ہمارے گند سمیت بچاو“ پاک دامن کو تو کوئی خوف نہیں ہوتا۔ اسے تو اپنی صفائی کیلئے خود ہی رضاکارانہ پیش کر دینا چاہئے۔ ایسے بہترین انسان کی ہر کوئی قدر اور عزت دل کی گہرائیوں سے کرتا ہے۔ ورنہ تاج و تخت‘ قارونی خزانے‘ داغدار زندگیاں کبھی بھی باعث عزت نہیں ہوئے۔ بدبختوں کا پہلے خلق خدا کے دلوں سے عزت و احترام ختم کیا جاتا ہے اور پھر جب ان کی رسی کھینچی جاتی ہے۔ تو کوئی علاقائی کارڈ‘ یوم سیاہ اور جعلی حاتم طائی کام نہیں آتے۔محسن امین تارڑ ایڈووکےٹ لاہور 0331-6442093