خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان کیسے روکا جائے؟

مکرمی! پھر ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ مجھ جیسے تمام پاکستانیوں پرسکتہ طاری کر گیا جب کالا خطائی روڈ لاہور کی رہائشی ماںبچوں کی بھوک کو برداشت نہ کر تے ہوئے زہر کھا کر اپنے بچوں کو ماں کی ممتا سے محروم کر گئی۔ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہماری یہ ماں ہم سب سے روٹھ گئی۔ایک ماں کی اس بے بسی پرمیراضمیر مجھے مجرم قرار دے رہاہے ۔میرے ہی گلی کوچوں میں کتنی ایسی ماﺅں کے ہاتھ میرے سامنے سوالیہ انداز میں پھیلے اور میں نے کتنے ہا تھ پیشہ ور بھکاری قرار دے کر خالی لوٹا دیئے۔ میرے خیال بندہ خود کشی اس وقت کرتا ہے جب ذہنی طور پر کسی مشکل میں اپنے آپ کو بے بس پا تا ہے۔تو کیوں نہ ہم ایک دوسرے کی بے بسی کا مداوا بنیں۔ ایک وقت تھا جب زکواة اور زکوة کمیٹیاں ہوتی تھیں مگر اب کمیٹیوں کے بورڈ تو کہیں کہیں نظر پڑ جاتی ہیں ۔خدا جانے زکواة کہاں غائب ہو گئی۔غریب لوگ بچوں کو مدرسوں میں داخل کرا دیا کرتے تھے مگر مدارس والوں سے پہلے پہل تو امریکہ ناراض ہوا پھر حکومت اور اب عوام نے بھی نظریں چرا لیں،یہاں ایشیاکی سب سے بڑی غریب پر وربے نظیر انکم سپورٹ سکیم بھی سیاسی ورکروں تک محدود محسوس ہوئی۔ عوامی نمائندہ یا کوئی مذہبی لیڈر امانت داری کے اس معیار پر پورا اُتر تا ہے؟اگر نہیں تو ہم سب کو اجتمائی توبہ کی ضرورت ہے ۔
ؑعبدالعزیز سکھانی ´159/Eتاجپورہ سکیم مغل پورہ ،لاہور0321-4182693