حج .... عبادت یا تجارت؟؟؟

مکرمی! حج بیت اللہ جوکہ ایک مقدس عبادت اور دینی فریضہ ہے جس کی ادائیگی کیلئے ہر مسلمان ہر وقت کوشاں رہتا ہے لیکن ہمارے اس عوام دوست بجٹ میں اس کی ادائیگی کیلئے اتنے زیادہ expense رکھ دئیے گئے ہیں کہ ایک غریب تو صرف اس حسرت کو دل میں ہی رکھ سکتا ہے۔ حج ایک عبادت اور فریضہ ہے ناکہ ایک تجارت جوکہ ہر سال اس کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے لیکن ہمارے حکمران بالا نے اس مقدس عبادت کو بھی تجارت بنا دیا ہے۔ کیا یہ عوام دوست بجٹ ہے؟؟؟ کہ جس میں ایک مقدس فریضہ کی ادائیگی کیلئے اخراجات میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دوسرے مذاہب کے مذہبی تہوار کی آمد ہوتی ہے تو وہ لوگ اشیاءکی قیمتوں میں کمی کر دیتے ہیں کہ ہمارے غریب بھائی‘ بہن بھی اس میں بہتر انداز میں شریک ہو سکیں لیکن ہمارے ہاں تو رواج ہی الٹا ہے۔ جب کبھی کوئی ہم مسلمانوں کا کوئی تہوار آتا ہے تو اشیاءکی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ اب تو ہمارے اس عوام دوست بجٹ نے بھی حج کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ کرکے اسے بھی تجارت کا رنگ دے دیا ہے۔ میری اور میرے سب مسلمان بہن اور بھائیوں کی حکمران بالا سے اپیل ہے کہ ایسے عوام دوست بجٹ بنانے سے گریز کریں۔سعدیہ فضل حسین ساہیوال