قومی ترقی کیلئے چند ضروری تقاضے

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی: بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے زیادہ قابل کاشت زمین کی ضرورت ہے۔ اور اس کی سیرابی کیلئے زیادہ پانی کی ضرورت ہے۔ توانائی کے بحران  پر قابو پانے کیلئے بجلی کی ضرورت ہے۔ اور سیلابوں کی تباہ کاریوں سے بچنے کیلئے دریائوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین ہمارے بے لگام دریائوں اور نالوں کے پیٹ میں پڑی ہے۔ کوئی آبی بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے پانی سے ضرورت کے مطابق بجلی پیدا نہیں کی جارہی۔ جس سب سے زیادہ سستی ہوتی ہے۔ پاکستانی عوام کیلئے مہنگی بجلی مصیبت بنتی جارہی ہے۔ آٹھ ہزار روپے کی ماہانہ آمدنی والا شخص  چھ ہزار  روپے بجلی کا بل کیسے دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ سیلابوں کی آئے دن تباہ کاریاں عوام کیلئے عذاب بن چکا ہیں۔ سیلابوں کے سالانہ تین مہینوں میں سیلابوں کاپانی انسانی بستیوں ، فصلون  اور مویشیوںکو تباہ  کرتا ہوا سمندر میں جاگرتا ہے۔ اور باقی نومہینے فصلوں کیلئے تو کجا بعض جگہ پینے کیلئے بھی پانی نہیں ملتا۔ میٹھا پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جسے ہم ضائع کررہے ہیں۔ نو مہینے دریائوں میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح  ابھی نیچے جارہی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ تمام دریائوں اوربڑے نالوں کا پھیلائو تنگ کرکے ان کے پانی کو کنٹرول کیا جائے۔ اور مناسب پھیلائو رکھ کر کناروں کے ساتھ مضبوط بند تعمیر کئے جائیںخواہ ان پر کھربوں روپے خرچ ہوں۔ اس بندوبست سے لاکھوں ایکڑ ز مین حاصل ہوگی۔ جسے بے زمین کاشتکاروں  میں گزارہ یونٹ کے مطابق تقسیم کرکے اربوں روپے کی سالانہ پیداوار حاصل کی جاسکے گی۔ مناسب جگہوں پر بیراج اور ڈیم تعمیر کرکے سستی بجلی اور وافر زرعی پانی حاصل ہوگااوردریائی علاقوں کے عوام سکھ کی زندگی بسر کر سکیں گے۔
(ڈاکٹر محمد اسلم سیال۔جھنگ صدر)