تعلیمی امتحانات کا نظام

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی: قوموں کی ترقی میں تعلیم بہت اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن ہماری بدقسمتی کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہم ہر شعبے میں تجربات ہی کئے جا رہے ہیں اور شعبہء تعلیم بھی انہیں میں سے ایک ہے ۔ ہمارے امتحانی نظام کی حالت کا ندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کہ ایف ایس سی کرنے کے بعد انٹری ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہے تمام میڈیکل ، انجینئرنگ کالجز سمیت اہم ادارے انٹری ٹیسٹ کے بغیر داخلے ہی نہیں دیتے اگر ہمارے امتحانی نظام پر سب کو اعتماد ہوتو حکومت نے انٹری ٹیسٹ کی اجازت کیوں دے رکھی ہے؟ اس پر اعتماد کیا ہی نہیں جاسکتا سب سے پہلے تو امتحانی سینٹر میں کوشش کی جاتی ہے کہ سپرنٹندنٹ سے تعلق قائم کرکے امتحانی سینٹر میں سہولیات لی جائیں وہ ہاتھ نہیں آتا تو ڈپٹی سپرنٹندنٹ کو کسی طرح قابو میں کیاجائے اگر وہ بھی ہاتھ نہ آئے تو نگران تو مل ہی جاتا ہے جو امتحانی سینٹر پرچے کو حل کرنے میں باہر سے آنے والی امداد کو امیدوار کو پہنچائے گا اگر امید وار کسی تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والی شخصیت کاہے تو ان کے امتحانی پرچے حل کرنا ان کے فرائض میں شامل ہوتا ہے اگر امتحانی سینٹروں میںکوئی کسر رہ جائے تو محکمہ تعلیم کے افسران کو پتہ ہوتا ہے کہ امتحانی پرچے کہاں کہاں چیک ہونے کے لئے گئے ہیں وہ ان تک پہنچ کر پیپرز حل کر لیتے ہیں اس طرح امتحان تو اس کاہی ہوتاہے جس بیچارے کا کوئی بھی نہ ہو ورنہ اکثر طلبا و طالبات یہی طریقہ استعمال کرتے ہیں جو غریب بچے بہت ہی اچھے نمبروں میں پاس ہوتے ہیں ان کی خوش قسمتی ہی ہوتی ہے یہ سلسلہ پچھلی کئی دھائیوں سے جاری ہے ان حالات میں کوئی غریب طالب علم یا طالبہ بورڈ ٹاپ کر جائے تو میںاسے معجزہ ہی سمجھتا ہوں پورے تعلیمی نظام کو پیچیدہ بنا دیاجائے۔(چوہدری عبدالرزاق ،چیچہ وطنی)