قوم کو مایوسی کے گرداب سے نکالنے کی ضرورت

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
قوم کو مایوسی کے گرداب سے نکالنے کی ضرورت

مکرمی! قیام کے بعد پاکستان کو جس ڈگر پر چلنا تھا بدقسمتی سے وہ ڈگر وقتی مصلحتوں اور تاریخی المیوں کے باعث کہیں دھند میں کھو گئی۔ ابتدا سے لے کر آج تک قوم اس ڈگر کی تلاس میں سرگرداں ہے‘ بے سمت قوم کی مانند عوام ہر ایک بازی گر کی شعبدہ بازی سے متاثر ہوتے رہے۔ جس نے امید کی کرن دکھائی‘ قوم نے اس کے دامن میں اپنا سب کچھ ڈال دیا۔ بار بار ڈسے جاتے ہیں لیکن پھر بھی اعتبار کرنے سے باز نہیں آتے‘ پاکستانی عوام کی یہی خوبی ہے کہ وہ ’’ناامید نہیں ہوتے‘‘ ناامیدی انسان کو کفر کی جانب لے جاتی ہے۔ عوام کی ہمت اور صبر کی داد دینا پڑتی ہے کہ وہ پے در پے لٹنے کے باوجود ابھی مایوسی کی آخری منزل تک نہیں پہنچے۔ ہر سیاسی جماعت کا یہ دعویٰ کہ وہ عوام کی ہمدرد‘ نظریہ پاکستان کی محافظ اور عوام کی قسمت بدلنے کا ادراک رکھتی ہے۔ ہر سیاسی جماعت غریبوں کو امیر بنانے کے خواب دکھاتی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی نوید سناتی ہے۔ کرپشن‘ اقرباء پروری‘ بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کی بات کرتی ہے۔ افسوس کہ کوئی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ اس کے باوجود پاکستان کی عوام اس بات پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے کہ اس خرابے سے تعمیر کی صورت نمودار ہو گی۔ انشاء اللہ!

(صداقت علی ناز- حبیب ٹاؤن کامونکے ضلع گوجرانوالہ)