وزیراعظم کا دورہ گوجرانوالہ اور عوامی خواہشات

مکرمی!وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کا حالیہ دورہ گوجرانوالہ شہری مسائل کے حل کے حوالے سے نہایت مایوس کن رہا۔ گوجرانوالہ کے شہری‘ علمی‘ ادبی‘ تجارتی و صنعتی حلقے بجا طور پر پر امید تھے کہ وزیراعظم کے دورہ سے شہر کے جائز اور دیرینہ حل طلب مسائل کے معاملے میں ضرور پیش رفت ہو گی اور اس موقع پر گوجرانوالہ میں میڈیکل کالج یونیورسٹی کیڈٹ کالج‘ ریڈیو پاکستان‘ ہوائی اڈہ‘ طلبہ و طالبات کے لئے علیحدہ علیحدہ گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن‘ لیبر کالونی‘ صحافی کالونی اور نئی ہاﺅسنگ سکیم کی منظوری کے علاوہ گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف لیدر ٹیکنالوجی کو کالج آف لیدر ٹیکنالوجی‘ گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں نئی ٹیکنالوجیز کا قیام اور اسے کالج کا درجہ دینے کا اعلان ہو گا اور پھر ان مسائل کے سلجھاﺅ کی کوئی عمل شکل سامنے آئے گی۔ گوجرانوالہ کو وطن عزیز کا گنجان آباد ترین اور گندہ ترین شہر تو کہہ دیا جاتا ہے مگر چاہئے تھا وزیراعظم اس اہم صنعتی و تجارتی شہر کے واٹر سپلائی سیوریج سسٹم‘ اندرون شہر سڑکوں اور چوراہوں کی کشادگی موجودہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پانچ سو بستروں کے فوری اضافے‘ غربی گوجرانوالہ کیلئے ایک نئے ہسپتال کی تعمیر‘ جی ٹی روڈ پر کم از کم پانچ سب ویز کی تعمیر کیلئے فیاضی سے گرانٹ دے کر جائے۔ گوجرانوالہ میں ٹریفک کی ابتر صورتحال پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وطن عزیز کا یہ پسماندہ ترین شہر جس کی آبادی تیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے بغیر کسی ٹریفک سگنل کے چل رہا ہے جو کہ اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں بہت سے قارئین کیلئے باعث حیرت بلکہ ناقابل یقین ہو گا
حقیقت تلخ ہے لیکن یہی ہے
وزیراعظم نے اس سے قبل دو مرتبہ رچنا انجینئرنگ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ تین بار تالیوں کی گونج میں گوجرانوالہ میڈیکل کالج کے قیام کا عندیہ بھی دیا گیا مگر کئی عشرے گزرنے کے باوجود عملی اقدامات آج بھی صفر ہیں۔ (محمد مظفر علی چیئرمین گوجرانوالہ سٹیزن فرنٹ03344218589)