ملک وقوم کی سرخروئی صرف تین طریقوں میں ہے

مکرمی! اگر قومی کشتی جس میں ہم سب سوار ہیں ہمارا ملاح اور سربراہ ہی کشتی میں بڑا سوراخ کر رہا ہو اور پھرکہے بچ کے دکھا پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے، کتنی دیر سستی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہم کب تک قرض امداد کا رونا روتے رہیں گے حالانکہ اربوں کھربوں کے معدنی ذخیرے اور کارخانے چل رہے ہیں جو کچھ اپنے پاس ہے اسے حرکت دیں باہر کی کوئی امداد طلب نہ کریں ۔ یہ صرف تین کام ہیں۔(1) سول ڈیفنس اور ملٹری ٹریننگ 20 سے 40 سالہ افراد میں ہر ایک کے لئے لازمی قرار دی جائے یا دلائی جائے۔ یہ ہر آدمی میں کام کی لگن اور سپرٹ پیدا کرے گی۔(2) اقتصادی گنجلوں سے فوری نکلنے کے لئے ملک بھر کی کانوں سے پتھر کا کوئلہ ملک کی ہر آبادی میں بڑی مقدار میں پہنچایا جائے، اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے بے شمار بجلی کے چھوٹے دیسی ساخت کے یونٹ بنوائے اور لگوائے جائیں بلکہ ہر بڑی بھٹی چاہے سٹیل مل کی ہو یا شیشہ بنانے کی کراچی سٹیل مل کی طرح بھٹی سے ڈائریکٹ بجلی پیدا کی جائے۔ پہاڑوں پر رہنے والوں کی طرح اپنے انجینئر اور کارخانوں سے چند ہزار میں دیسی ساخت کے یونٹ بنوا کر اپنے سینکڑوں چشموں اور ہوا سے بجلی لیں اور سورج توانائی سے ریگستان میں بجلی اور بیٹریاں بنائی جائیں جس سے چھوٹی گاڑیاں بغیر پٹرول چلیں گی۔ اس طرح ساری قوم زیادہ سے زیادہ 3 روپے یونٹ بجلی کا استفادہ کر سکے گی۔ ہر کاشتکار کوچھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا زمین پر لازمی سبزی اگانے کا پابندکیا جائے اور کم از کم دو بھیڑ بکریاں پالنے کا پابند کیا جائے۔ جاپان و چین و غیرملکوںکی طرح ہر گاوں اور شہرمیں مکانوںکے دالان اور چھتوں پر گملوں میں سبزی اگانے کا رواج دیا جائے۔ (3) ملک و قوم میں بے حسی اور لاپرواہی پیدا کرنے والی چیزوںسے چھٹکارا لمبے ڈرامے اور لمبے وقت کی کھیلیں بند کر کے ان کے اشتہاراور پراپیگنڈا بند کر کے ان سے جان چھڑائیں ملک کی کشتی ڈانوا ڈول ہو رہی ہے اور روزانہ لمبے وقت کی کھیلوں میں دلچسپی بڑھا کر قوم کو پاگل کر دیا ہے۔ ایسے کھیل اور بے حیا ڈرامے بند کر کے سلجھی ہوئی قوم کے لوازمات خوف خدا‘ اخلاق‘ کردار وقت کی قدر اور فرض شناسی کی آبیاری کی جائے۔ قرآن پاک ایسے مضامین اور پروگراموں سے بھرا پڑا ہے۔ (محمد بشیر کوٹ کمبوہ بند روڈ لاہور)