حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے نام

مکرمی! ایک حیران کن خبر پڑھنے کا اتفاق ارکان قومی اسمبلی جمشید دستی‘ نذیر جٹ‘ اور ایم پی اے محمد اجمل عدالت میں مستعفی ہو گئے کیونکہ وہ اپنی ڈگریوں کو اصل ثابت نہ کر سکے۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا یہ بات یہاں پر ختم ہو جائے گی یا (1 ان پر فراڈ یعنی 420 کا مقدمہ چلایا جائے گا جو کہ بہت ضروری ہے کیونکہ انہوں نے ایک آدمی کے ساتھ نہیں پوری قوم کے ساتھ دھوکہ دیا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ بات سب کے سامنے ہے۔
(2 کیا ان سے ریکوری کی جائے گی ان تنخواہوں اور آلائشوں کی جو وہ حاصل کرتے رہے ہیں کیونکہ میرے علم میں جو باتیں یا واقعات ہیں ان کی روح سے تو پہلے ایسا ہی ہوتا تھا مگر صرف غریب آدمی یا چھوٹے ملازمین کے ساتھ
اعلٰی عدلیہ کی طر ف سے پہلا قدم تو اٹھایا گیا ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے مگر آخری قدم اٹھائے بغیر یہ سلسلہ روکا نہیں جا سکتا۔ ان لوگوں نے پوری قوم کے ساتھ نا انصافی کی ہے امانت میں خیانت کی ہے اس چیز کی سزا صرف مستعفی ہونا نہیں دفعہ 420 کے مطابق سزا اور ریکوری کی جائے اس کے علاوہ ان کو ساری عمر کے لئے نا اہل قرار دیا جائے۔
(انجینئر محمد وحید الحسن ولد شوکت علی اسد مکان نمبر 4/B اقبال بازار کمالیہ)