کیا پاکستان میں ”افراطِ زر“ ہے؟

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی ! پاکستان ضروریات زندگی میں خودکفیل ملک ہے۔ یہاں افراط زر ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں جو مہنگائی ہے وہ حکمران طبقے کی مسلط کی ہوئی ہے۔ وہ جو نئی کرنسی چھاپتے ہیں وہ سود پر چلانے کے لئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سربراہی میں قائم سودی نظام کے حوالے کر دیتے ہیں اور عوام سے جو ٹیکس وصول کرتے ہیں وہ اپنی عیاشیوں اور اپنی سات پشت کیلئے اندرون و بیرون ملک اثاثے بنانے میں اڑا دیتے ہیں۔ پھر مزید عیاشیوں کے لئے سودی نظام سے اپنی کرنسی بطور سودی قرض لیتے ہیں اور یہ قرض بھی معہ سود عوام سے ادا کرواتے ہیں۔ ترقیاتی کام نہ ہونے سے عوام میں شدید بے روزگاری پھیلتی ہے جس سے وہ افراط زر کے بجائے قلت زر کا شکار ہو کر غربت کی سطح سے نیچے چلے جاتے ہیں تو ذرائع ابلاغ میں سود خوروں کے ایجنٹ اس کا الزام افراط زر پر لگا کر عوام سے کی گئی اس بڑی دھوکہ دہی پر پردے ڈالتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حکومت اتنے کروڑ روپے کے نوٹ چھاپ رہی ہے یہ نہیں بتاتے کہ یہ نوٹ جاتے کہاں ہیں کہ اس طرح حکومت کو جواب دینا پڑے گا۔ حکومت اپنی کرنسی سودی نظام کو دینے کے بجائے خود کنٹرول کر کے ملک کو فلاحی مملکت کیوں نہیں بناتی جس کے تمام لوازمات ملک میں موجود ہیں۔ (ظفر عمر خان فانی ۔ لاہور)