شاید کہ تیرے دل میں اُتر جائے میری بات

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی! محکمہ زراعت پنجاب نے 2006ءمیں ملکی زرعی ضروریات کے پیش نظر ”فروٹ اینڈ ویجٹیبل ڈویلپمنٹ“ کے نام سے ایک پراجیکٹ کیلئے مختلف آسامیوں پر ایگری گریجویٹس اور متعلقہ ٹیکنیکل سٹاف کو قانونی طریقہ کار کے مطابق مجاز اتھارٹی نے ٹیسٹ و انٹرویو کر کے کنٹریکٹ پر بھرتی کیا۔ نوجوان ایگری گریجویٹس کی شبانہ روز محنت اور کوشش سے پنجاب کے کاشتکاروں نے زراعت کے جدید ترین اصول و مبادی سے آشنائی حاصل کی جس کے نتیجے میں سال 2006ءمیں Tunnel farming جو صرف تین ہزار ایکڑ تک محدود تھی بڑھ کر امسال تیس ہزار ایکڑز تک پہنچ چکی ہے۔ گورنمنٹ آف پنجاب نے اس پراجیکٹ کو مستقل کرنے کیلئے اسے محکمہ زراعت (توسیع) کا حصہ بنانے کا مستحسن فیصلہ کیا ہے تاہم اس پراجیکٹ سے متعلق تمام ایگری کلچرل افسروں اور ٹیکنیکل سٹاف کو 30 ستمبر 2013ءکو معیاد کنٹریکٹ مکمل ہونے کی وجہ سے فارغ کیا جا رہا ہے۔ خادم اعلیٰ پنجاب سے التماس ہے کہ ہمارا کیس بھی گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کنٹریکٹ ملازمین جن کو مستقل کر دیا گیا ہے کی طرح ہمدردانہ انداز سے زیر غور لایا جائے۔ بیروزگاری کے اس دور میں ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد ہمارے بچوں کو شاید روزی کا کوئی متبادل ذریعہ نہ مل سکے۔(رابعہ سندس اوکاڑہ)