ہم سب ایک دوسرے کے محتاج ہیں

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
ہم سب ایک دوسرے کے محتاج ہیں

مکرمی! ہم اکثر، تکبر میں غصے میں یا دولت کے زعم میں ایک دوسرے کو کہہ دیتے ہیں کہ ہم کسی کے محتاج نہیں ہم انجانے میں اللہ کی ذات میں شرک کر بیٹھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مختلف مسائل کا شکار ہیں یہ محض ہماری لاعلمی کا نتیجہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی واحد ہستی ہے جو کسی کی محتاج نہیں وہ تخلیق کار ہے ہم سب کو تخلیق کرنے والا ہماری ضرورتیں پوری کرنے والا۔ پیغمبروں سے لے کر عام انسانوں تک تمام لوگ ایک دوسرے کے محتاج ہیں ایک دوسرے کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے ہماری زندگی کی روانی ایک دوسرے سے مشروط ہے۔ اولاد والدین کی، والدین اولاد کے، بہن بھائی دوست احباب سب ایک دوسرے پر ڈپینڈ کرتے ہیں پھر معاشرتی طور پر بھی ایک دوسرے کو سہارا دیئے بنا نہیں رہ سکتے ہیں چھوٹی چھوٹی چیزوں سے لے کر بڑی بڑی چیزوں تک ہم ایک دوسرے سے حاصل کرتے ہیں دنیا کی رونق، زندگی کی چہل پہل علم کی آگہی ہمیں ایک دوسرے کے بغیر میسر نہیں آ سکتی اگر کسان نہ ہو تو ہم تمام اناج، سبزیوں اور پھلوں کو ترستے رہیں ملوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے نہ ہوں تو ہماری ضرورتیں پوری نہ ہوں استاد نہ ہو تو علم و آگہی کے دروازے بند ہو جائیں ڈاکٹر نہ ہوں تو ہم امراض کا شکار ہو جائیں غرض ہم ایک دوسرے کے محتاج ہیں یہ محتاجی کی ضرورت ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی اپنی مرضی شامل ہے اس نے ہمیں ایک دوسرے کا محتاج بنایا ہے ہم ایک دوسرے پر احسان نہیں کرتے بلکہ ہمیں اللہ تعالی کا اور مخلوق خدا کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کے کام آتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام آنا ہمدردی سے پیش آنا انسانیت کی دلیل ہے اس لئے ہمیں اب کبھی بھی یہ کافرانہ جملے نہیں بولنے چاہیے کہ ہم کسی کے محتاج نہیں۔ (طاہرہ جبین تارا، لاہور)