دفاع وطن کے تقاضے

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
دفاع وطن کے تقاضے

مکرمی۱ دفاع وطن کی جب بھی بات آئے تو ہر محب وطن کا جذباتی ہونا قدرتی بات ہے۔ رگ و پے میں خون ابلنے لگتا ہے، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جس طرح کسی نے کہا تھا
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل جو آنکھ سے نہ ٹپکے وہ لہو کیا ہے
آج وطن کی محبت میں رچا بسا خون آنسو بن کر ہر فرد کی آنکھ سے ٹپک رہا ہے، آج اس ملک پاکستان کا ہر محب وطن شہری ملکی حالات دیکھ کر پریشان ہے اور کیوں نہ ہو جبکہ کراچی سے خیبر تک فتنہ و فساد کی آگ بھڑک رہی ہے۔موت پوری بے باکیوں اور خوفناکیوں کے ساتھ دہشت پھیلائے ہوئے ہے جس کے آگے ریاست بے بس نظر آتی ہے۔ دہشت گردی پورے زوروں پر ہے مگر حیرانی کی بات ہے کہ افواج پاکستان اور ان سے متعلقہ ایجنسیوں کے سوا کسی ریاستی ادارے میں مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے خلوص اور جرات کے ساتھ اس عفریت کا مقابلہ کرنے کی نیت نظر نہیں آتی۔ اب یہ بات شاید کچھ لوگوں کو بری لگے کہ ملک کو جن مسائل کا سامنا ہے موجودہ سیاسی قیادت کسی بھی لحاظ سے ان کا سامنا کرنے کے قابل نہیں۔ قومی سطح پر قد و قامت رکھنے والا شاید ہی کوئی سیاسی رہنما ہو جن کے اثاثے بیرون ملک نہیں۔ دفاع وطن کا تقاضا ہے کہ ہر شخص کو یہ بات ذہن نشین کروائی جائے کہ یہ اس کا اپنا دفاع ہے، اس کے مفادات کا دفاع ہے، اس کی آنے والی نسلوں کا دفاع ہے، اس کی عزت و آبرو کا دفاع ہے، اس کی غیرت و وقار کا دفاع ہے، انسانیت کا دفاع ہے، سب سے بڑھ کر اس کے ایمان کا دفاع ہے اور بلا شک و شبہ امت کا دفاع ہے۔ (ریحان فہیم ماہل ایڈووکیٹ لاہور)