جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی

مکرمی! جمہوریت اپنی تمام خرابیوں کے باوجود اپنے اندر اصلاح اور تبدیلی کا اہم پہلو رکھتی ہے اور جرنیلی آمریت اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جمہوریت میں سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں ملکی عدل و امن، معاش و معیشت، تعلیم و صحت، زرمبادلہ سمیت ہر شعبہ زندگی کی بربادی خصوصاً قومی آمدن اور اخراجات میں 70 فیصد تک کرپشن کے بدلے بجلی، گیس وفیول کی مہنگائی اور غیر پیداواری سرمایہ کاری کے عوض ملکی صنعتی زرعی پیداوار پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔بنگلہ دیشی پارلیمنٹ نے 50 ہزار کالے قوانین کا خاتمہ کیا ہے۔
صوبائی اور قومی سطح پر جب تک ارکان پارلیمنٹ ان کا تفصیلی جائزہ اور اصلاحات کا اجرا نہیں کرتے حالت بدل نہیں سکتی۔ ملکی سطح پر جب تک تباہ کن کرپشن استحصالی اور جبری پالیسیوں خصوصاً غیر پیداواری سرمایہ کاری ارو اس شعبہ کی مراعات اور ترغیبات کا خاتمہ نہ کیا گیا۔ بالخصوص قیمتی گاڑیوں محل نما گھروں اور جائیداد پر بھاری ٹیکس عائد کر کے سنگین کرپشن کی اس بنیاد کا خاتمہ نہ کیا گیا۔ تو تب تک ملکی اور عوامی خوشحالی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔(نذیراحمد علوی)