تعلیمی اداروں کی بھاری بھر کم فیسیں

مکرمی! تعلیم ایک انمول شے ہے مگر موجودہ دور میں تعلیمی اداروں کی موٹی موٹی فیس ادا کرنا متوسط طبقے کی استطاعت سے باہر ہے اگر کوئی طالب علم بے حد محنت کے بعد اس مقام تک پہنچ بھی جائے تو تعلیمی اداروں کی بھاری فیس اور اضافی اخراجات ان کی پڑھائی کے شوق کے سورج کو طلوع نہیں ہونے دیتے، ان حالات کی روشنی میں ان کے والدین پڑھائی کی نسبت ہنر کو ترجیح دیتے ہیں ناخواندگی شرح میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور جو طالب علم ان تمام مشوروں پر پورا اتر بھی آئے تو تعلیم جیسے انمول ہیرے کو حاصل کرنے کے باوجود کوڑیوں کے مول بکتا ہے۔ تب والدین کی محنت اور اس طالب علم کی محنت سر بازار رسوا ہوتی ہے ان کی راتوں کو جاگ جاگ کر کی گئی پڑھائی والدین کی دو وقت کی روٹی کو ترک کرکے بھاری فیسوں کی ادائیگی سب رائیگاں جاتی ہے۔ موجودہ دور کے طالب علم تعلیم کی نسبت پیسے کو ترجیح دیتے ہیں اگر ناخواندگی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے تو اس کی اہم وجہ پڑھائی کا مہنگا ہونا اور پھر اس کو حاصل کرکے اور اس کا کوڑیوں کے مول بکنا ہے۔ والدین کی کوشش اور ان کی محنت کا ثمر ان کو ملتا تو ضرور ہے مگر اس میں اتنی برکت نہیں ہوتی کہ ایک گھر خوشحال زندگی گزار سکے، امید پر دنیا قائم ہے اور امید ہے کہ تعلیم اپنی اصل اہمیت حاصل کر ہی لے گی۔(صدف ذوالقرنین)