’’پاکستان کا مطلب کیا؟ ساڑھے پانچ ارب ڈالر کا قرضہ‘‘

مکرمی! کئی سالوں سے ہم ڈالروں کی صورت میں قرضے لے رہے ہیں اور پھر ہمارے رہنما قرضہ لے کر نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہیں مگر قوم ان قرضوں کی ادائیگی کے نیچے اتنی زیادہ دب چکی ہے کہ ایک عام آدمی کو ایک وقت کی دال روٹی بھی میسر نہیں ہو رہی۔ اب ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی جو امداد ملی ہے اس سے مہنگائی اور زیادہ بڑھے گی۔ ہر شے مہنگی ہو گی۔ کاش ایسا نہ ہوتا اور اگر ہم سیدھی راہ اختیار کرتے تو ہمارے بند پڑے ہوئے کارخانے دوبارہ چلائے جاتے‘ بجلی سستی کی جاتی‘ افراط زر کو قابو کیا جاتا۔ بلوچستان اور سندھ کا غیر آباد علاقہ زراعت سے آباد کیا جاتا‘ پہاڑوں پر پن بجلی کے فوری طور پر بجلی گھر قائم کئے جاتے‘ پرائیویٹ سیکٹر کی بھرپور امداد کر کے ملک کی صنعت کو دنیا کی صف اول میں کھڑا کیا جاتا۔ مغلپورہ کے ایک صنعتکار نے پینتیس سال بیشتر ایک مکمل جیپ تیار کر کے فوج کو دیدی تھی مگر سرپرستی نہ ملنے کی بنا پر جیپ آگے نہ بنائی جا سکی۔ اب ہمارے لئے یہ واضح ہو چکا ہے کہ بیوروکریسی کسی حکومت کو ملک و قوم کی خاطر کوئی کام کرنے ہی نہیں دیتی اور سیاستدان بذات خود اتنے کمزور اور نااہل ہیں کہ وہ قوم کی مشکلات کا ازالہ کرنا ہی نہیں جانتے۔ ابھی پندرہ بیس سال پہلے ہندوستانی ہمارے یہاں آ کر طرح طرح کا سامان خرید کر لے جاتے تھے اور اب انکے ملک میں دنیا کی ہر شے ہم سے سستی اور وافر ملتی ہے۔ گاڑیاں ٹرک اسمبل نہیں کرتے بلکہ خود بناتے ہیں۔ اسی طرح کئی موٹر سائیکلیں بھی وہیں بنتی ہیں۔ جاپان‘ ملائشیا‘ کوریا‘ چین‘ تائیوان‘ تھائی لینڈ‘ سنگاپور ہمارے سامنے دیکھتے دیکھتے یورپ امریکہ کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں جبکہ ہم ہاتھ پھیلانے والے فقیر بن چکے ہیں۔ ہمارے سیاستدان جوڑ توڑ کرنا‘ باتیں کرنا‘ محب وطن بننا‘ ہمدردیاں جتانا‘ غریبوں سے جھوٹے وعدے کرنا‘ یہ سب کچھ تو جانتے ہیں مگر جب ان سے کوئی پریکٹیکل کام کیلئے کہا جاتا ہے تو انکی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔ کوئی بھی قوم کیلئے بھلائی کا کام نہیں کرنا چاہتا۔ بیوروکریسی ایسی شرائط عائد کرتی ہے کہ جو کوئی شخص پورا ہی نہ کر سکے۔
(اختر مرزا گلبرگ V لاہور)