پاکستانی عوام کیلئے پھر لولی پاپ کا تحفہ

مکرمی! بجلی کا شارٹ فال پورا کرنے کیلئے لوڈشیڈنگ کا ڈرامہ تو مستقل بنیادوں پر چل نکلا ہے‘ مزید بجلی پیدا کرنے کی طرف کوئی توجہ یا عملی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ گھڑیاں آگے کرنے کا تجربہ تین مرتبہ کیا جا چکا ہے جو بالکل ناکام رہا‘ اب پھر اس کو دہرایا جا رہا ہے۔ ہمارے حکمران اور بیوروکریٹس ناکام منصوبوں/ تجربات کو بار بار دہراتے رہتے ہیں تاکہ ملک ترقی نہ کر سکے‘ عوام کو سکون نہ مل سکے۔ اعلیٰ حکام سے التجاء ہے کہ ایک گھنٹہ گھڑیاں آگے کرنے کی روایت کو چھوڑ کر کوئی مثبت/ بہتر پروگرام عوام کو پیش کریں۔
نمازوں کے اوقات کو سورج کے حساب سے رکھا جاتا ہے اس لئے نمازوں کے اوقات مزید ایک گھنٹہ آگے کر دیئے جاتے ہیں۔ بڑی مارکیٹوں کے اوقات دس بجے صبح سے شروع ہونے کے بجائے 11 بجے شروع ہوتے ہیں۔ چھوٹی جماعتوں کے پرائیویٹ سکولز بھی سکول ٹائم ایک گھنٹہ آگے کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں سردیوں/ گرمیوں میں سورج کی روشنی دفتری اوقات کار میں دستیاب ہوتی ہے اس لئے ہمارے ملک میں گھڑیاں آگے کرنے کی روایت صرف عوام کو ٹالنے‘ لولی پاپ دینے کے مترادف ہے۔ بجلی کی بچت کے لئے بہتر ہو گا کہ تمام سرکاری دفاتر میں ائرکنڈیشنر کے استعمال پر پابندی لگا دی جائے جس سے بجلی اور ریونیو دونوں کی بچت ہو گی۔
(رشید احمد ایاز‘ چناب نگر)