تیل کی قیمتیں پھر کم نہ ہو سکیں

مکرمی! تین ماہ قبل حکومت نے آخری مرتبہ تیل کی قیمتوں میں کمی تھی۔ ان دنوں حکومت ہر پندرہ دن بعد تیل کی قیمتوں پر نظرثانی کرتی تھی۔ اس کے بعد مہینے بعد نظرثانی کا عندیہ دیا گیا۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں تو پاکستان میں فی لیٹر پٹرول کی قیمت 87 روپے کر دی گئی۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں گرتی گرتی 35 سے چالیس ڈالر فی بیرل پر آ ئیں تو حکومت پاکستان نے پٹرول کی قیمت 57 روپے فی لیٹر کر دی یہ پٹرول کی قیمت میں اچھی خاصی کمی تھی۔ لیکن عالمی منڈی کے مطابق قطعاً مناسب نہیں تھیں ۔ میڈیا میں دکھائے اور شائع ہونے والے سرویز کے مطابق حکومت ایک لیٹر پر 35 روپے منافع کما رہی ہے۔ جو ٹیکسوں سے الگ ہے۔
ڈیزل کا آج بھی بہت زیادہ اور اہم استعمال ہوتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ زیادہ تر ڈیزل پر ہے بہت سے کارخانوں اور ٹیوب ویلوں کے لئے ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح مٹی کے تیل کا استعمال بھی کافی ہے۔ جن علاقوں میں گیس نہیں پہنچی اور لوگ لکڑیوں کے دھوئیں سے بھی محفوظ رہنا چاہتے ہیں وہاں مٹی کا تیل استعمال ہوتا ہے۔ زیادتی یہ کی گئی ہے کہ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتیں نہ ہونے کے برابر کم کی گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے کرایوں میں کمی ہو سکی ہے نہ مہنگائی ہیں۔
حکومت نے خود اعتراف کیا ہے کہ ہر ماہ تیل کی فروخت کی مد میں 12 سے 15 ارب روپے تک منافع کمایا جا رہا ہے۔ جو حکومتی خزانے میں جاتا ہے۔ یہ عوام کے ساتھ اس حکومت کی زیادتی ہے جو خود ان کے ووٹوں سے اقتدار میں آئی۔ جمہوری حکومت کا کام اپنے عوام کو سہولتیں فراہم کرنا اور اس کی مشکلات کو کم کرنا ہوتا ہے۔ ہر ماہ کے آخر پر لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ اوگرا نے تیل کی قیمتوں میں کمی کی سمری حکومت کو ارسال کر دی ہے۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔ لوگ تیل کی قیمتوں میں کمی کی اطلاعات کو خوشخبری سمجھ رہے تھے لیکن حکومت نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ صدر پاکستان اور وزیراعظم سے گزارش ہے کہ وہ قوم کو مہنگائی کے عفریت سے نجات دلانے کیلئے پٹرول‘ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کریں۔
(ملک شکیل اکرم ایڈووکیٹ 03214438437)