تنخواہیں پنشن کم کردی جائے بشرطیکہ …

مکرمی! موجودہ ہوشربا گرانی میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشنرز کی پنشن کم پڑ گئی ہیں اور وہ جلسے جلوس دھرنے اور بھوک ہڑتال کر کے احتجاج کر رہے ہیں مہنگائی ہے کہ اوپر ہی اوپر جا رہی ہے ہاں اگر حکومت میں دم خم ہے اور موثر اقدامات کر کے چیزوں کے مندرجہ ذیل نرخ وہ کردیتی ہے تو وہ ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہیں اور پنشن بڑھانے کی بجائے بے شک کم کر دے۔ نرخ مندرجہ ذیل ہیں ۔گندم فی چالیس کلو گرام500 روپے‘ چاول سپر کرنل 30 روپے فی کلو ‘آٹا فی کلو15 روپے‘ دودھ 10 روپے کلو‘ دیسی گھی 150 روپے کلو‘ پٹرول 30 روپے لٹر‘ سونا 5000 روپے فی تولہ‘ ڈالر 40 روپے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح دالوں‘ سبزیوں اور کپڑے کی قیمت کم کر کے اسی تناسب پر کردی جائے اگر حکومت پاکستان مندرجہ بالا اجناس کی مندرجہ بالا قیمتوں پر فراہمی یقینی بنا دے تو بے شک بلکہ فوری وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشنرز کی پنشن کافی حد تک کم کر دے۔ کوئی احتجاج نہیںہو گا لیکن اگر حکومت مندرجہ بالا نرخوں پر چیزیں فراہم نہیں کر سکتی تو براہ مہربانی سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں کم از کم چالیس فیصد اضافہ کیا جائے اور پنشنرز کی پنشن میں کم از کم 30 فیصد اضافہ کیا جائے۔ بھوک ہڑتال‘ جلسے جلوسوں اور دھرنوں کا انتظار نہ کریں۔
(محمد رفیق ملک شالیمار ٹائون لاہور)