کہاں ہو تم

ایڈیٹر  |  مراسلات

کہاں ہو تم
تمہاری یاد کی شدت نے
تڑپایا مجھے ایسے
کیے ہیں یاد مرے ذہن نے
خوشیو ںکے وہ لمحے
تصور کے ہیولوں نے
جگایا میرے خوابوں کو
پکارا جب بھی تم نے
قلب کی گہرائی سے مجھ کو
جلا کر فکر کی قندیل
ہم فوراً چلے آئے
کہ تم سے دوستی کا زاویہ
ہے خوشنما اتنا
مجھے خود بھی نہیں آتا یقیں
اس خوش نمائی کا
تصور بھی نہیں کرنا
کبھی جاناں جدائی کا
(رانا احتشام ربانی)