مادری زبانوں کا عالمی دن

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! پچھلے دنوں مادری زبانوں کا عالمی دین منایا گیا جس میں مادری زبانوں پر سیمینار منعقد کئے گئے اور ان کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا گیا۔ مادری زبانوں کی اہمیت و افادیت سے کسے انکار ہو سکتا ہے۔ ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کی ہر ادا اولاد کیلئے پیاری ہوتی ہے تو پھر اس کی زبان جس سے وہ اپنے بچوں کو انتہائی مادرانہ شفقت سے لوریاں دیتی اور بہلاتی ہے کس طرح پیاری اور اہم نہیں ہو سکتی۔ اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ حکومت وقت قومی زبان کی طرح مادری زبانوں کی ترقی اور تعلیم و تدریس پر بھی توجہ دے اور کم از کم پرائمری تک اسے ذریعہ تعلیم بنایا جائے، اس کے باوجود قومی زبان کی اہمیت و فوقیت اپنی جگہ ہے جو ملک کی مختلف اکائیوں کو باہم مربوط رکھنے اور بین الاقوامی سطح پر قومی شناخت کیلئے از بس ضروری ہوتی ہے۔ ایک ہی محلے میں مختلف زبانیں بولنے والے رہائش پذیر ہوں تو ان میں رابطہ کیلئے ایک مشترک زبان کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ قومی زبان ہی ہوتی ہے لہٰذا مادری زبانوں کا اپنا مقام ہوتا ہے اور قومی زبان کا اپنا۔ ہماری قومی زبان اردو کو جس طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے انتہائی تکلیف دہ امر ہے۔ پنجابی زبان کو ہی لے لیجئے اس کیلئے کوئی خاص کام نہیں کیا جا رہا۔ اس کے باوجود نوائے وقت جیسا م¶قر اخبار پنجابی زبان کی نگارشات کو باقاعدگی سے اپنے صفحوں میں جگہ دے کر اس کی اچھی خاصی حوصلہ افزائی کر رہا ہے جو قابل تحسین ہے اور باعث فخر ہے۔ (جاذب بخاری ۔ مرغزار کالونی لاہور، 0323-8877632)