قومی کرکٹ تک رسائی

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی!ایک غریب کھلاڑی کو کلب لیول سے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کا ذکر کرنا اس لئے ضروری ہے کہ قومی ٹیم کے مستقبل کے وسیم اکرم، جاوید میانداد، عمران خان، سلیم ملک، سلیم یوسف اور راشد لطیف بننا ایک دیوانے کے خواب کی مانند ہے۔ یہ کہنا کہ فلاں غریب کھلاڑی قومی ٹیم کا حصہ کیسے بنا تو اس کی شمولیت میں گورننگ بورڈ اور حکومتی نمائندوں کی پشت پناہی یا کپتان کی ذاتی پسند اور کوچ کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ ایک کھلاڑی کو کلب لیول پر کھیلنے کیلئے ٹیم کے کرتا دھرتا عہدیدار کو تحفے اس کی ذاتی ضروریات کو پورا کرنا اگر باﺅلر ہے تو میچ اور پریکٹس کیلئے گیندیں اور DONATION دینا ہے اگر بلے باز ہے تو ٹیم کے کھلاڑیوں کو لنچ ٹیم کے آرگنائزر کو تحفے دینا، اس کے گھر حاضری دینا اور اس کو گھر سے کار میں لے کر جانا اور چھوڑ کے آنا بھی شامل ہے۔ اپنے بچوں کو مستقبل کا ٹیسٹ کرکٹر بنانے میں والدین بھی شامل ہوتے ہیں جو کلب درجہ سے ڈسٹرکٹ ریجن اور پھر قومی ٹیم کے اعلیٰ عہدیداروں سے دوستیاں گانٹھ کر ان کی تمام ضروریات پوری کرنے کیلئے کوٹھیاں تک کرائے یا ذاتی حیثیت میں لے کر بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں، سلیکٹرز، ریجن کے اعلیٰ عہدیداروں، سلیکٹرز اور کوچ کو ہر وہ چیز مہیا کرتے ہیں، جس کا نہ معاشرہ اجازت دیتا ہے اور نہ ہی ہمارا مذہب پھر قومی ٹیم پلیئر پاور جس کے سرغنہ ٹیم کے کرتا دھرتا کھلاڑی اپنی مرضی اور گروپ کے کھلاڑیوں سے میچز کا فیصلہ کسی وقت اور کسی طرف تبدیل کرسکتے ہیں اگر کھلاڑیوں کی گروپ بندی اور اجارہ داری نہ ہو تو کراچی اور ممبئی سے لے کر دبئی تک بڑے بڑے بک میکرز کس طرح کمائیں۔(طاہر شاہ سابق فرسٹ کلاس کرکٹر سابق منیجر و کوچ سروس انڈسٹریز کرکٹ ٹیم)