غازیو اور شہیدو ! قوم تمہیں سلام پیش کرتی ہے

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! ہماری جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظوں اور اس کے لئے جان قربان کرنیوالوں کو سلام صحرا اور دریا تو اپنی جگہ مگر جس سردی کی شدت سے سانس بھی جم جاتا ہے اور سلسلہ تنفس جاری رکھنا انتہائی دشوار ہوتا ہے اگر کچھ زیادہ دیر کے لئے رکنا پڑ جائے تو دماغ میں پانی اور خون بھی جم جاتا ہے۔ وہاںروز مرہ کے امور کے علاوہ موسم کی شدت کے ساتھ جنگ کے ساتھ ساتھ دشمن سے لڑنا کوئی ”کھیڈ زنانیاں دی“ نہیں۔ ان سب باتوں کے علم کے باوجود یہ سیاچن / کارگل پر کون ہماری آزادی اور استقلال کیلئے اپنی جانوں پر کھیل رہے ہیں؟ اور کس کے لئے ؟ یہ غازی اور ان میں سے جان نچھاور کرنیوالے شہدا ہمارے کل کیلئے جان دے رہے ہیں۔ ہر موسم میں ائرکنڈیشنڈ کمروں میں رہنے والے تو کیا عام انسان کیلئے وہاں ایک دن گزارنا موت کو آواز دینا ہے۔ اس کا ادراک ہم نہیں کر سکتے۔ اگر ان بہادروں کی قربانیوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے چند موقع پرست اور اقتدار کے لالچی جرنیل ان کی قربانیاں ضائع کر دیں تو اس میں ان غازیوں اور شہیدوں کا کیا قصور ؟ قوم اپنے تمام بری‘ بحری اور فضائی غازیوں اور شہیدوں کو سلام محبت اور عقیدت پیش کرتی ہے۔ اے وطن کے سجیلے جوانو ! قوم تم کو سلام کہتی ہے(میاں محمد رمضان ‘ 0333-4323373)