محبتوں کا امین اور خوشبووں کا سفیر … (ندیم اختر ندیم)

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
محبتوں کا امین اور خوشبووں کا سفیر  … (ندیم اختر ندیم)

ہمدرد ہم سخن وہ ہمارا چلا گیا
سیل رواں کا ایک کنارا چلا گیا
اب رہ گئے ہیں گھور اندھیرے جہان میں
کن بدلیوں میں چاند ستارا چلا گیا
بھگتیں گے اب مدام خزائوں کی زردیاں
یعنی ،کہ خوشبووں کا اشارہ چلا گیا
کیا ضبط غم کا درس اسے دے سکے کوئی
محبوب جس ،کاجان سے پیارا چلا گیا
نفرت کی آندھیوں سے بچائے تھے قافلے
الفت کی وادیوں میں اتارا چلا گیا
متحد ہوے نہ لوگ بصد کوشش مجید
ہر چند وہ سبھی کو پکارا چلا گیا
اب کس سے اپنے غم کا مداوا کریں ندیم
جانے کہاں وہ آنکھ کا تارا چلا گیا