انقلابی تماشہ

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
 انقلابی تماشہ

مکرمی! وہ پھر آ گیا ہے۔۔برف پوش چٹانوں کے سنگم میں نقطہء انجماد سے بھی کم درجہ ء حرارت میںواقع ’’آستانے‘‘ کا مکیں،خواہشات کے آتش کدے میں انقلاب کی حدت لئے ایک بار پھر آ گیاہے۔جب وہ پچھلی بار آیا تھا تو سرزمینِ انقلاب کا موسم نہائت سرد تھا لیکن اس کی آواز پہ لبیک کہنے والے اور والیوں نے موسمی اثرات کی ذرہ بھر بھی پروا نہ کی،سخت سردی میں کھلے آسمان کے نیچے برستی ہوئی تیز بارش میں شیر خوار بچوں کو چھاتی سے چمٹائے ’’بناتُ الاسلام‘‘ گرم کنٹینر میں جلوہ افروز ’’قائدِ انقلاب‘‘ کی سیاسی بقا کی خاطر اپنی اور اپنے معصوم بچوں کی فنا کو گوارا کر رہی تھیں۔انقلاب بڑی کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔سب کچھ ٹھیک اور درست سمت میں چل رہا تھا۔اگرچہ قائدِ انقلاب کی شخصیت قابلِ اعتبار نہ تھی لیکن لشکرِ انقلاب کا جذبہ ناقابلِ یقین حدتک عزم و استقامت سے بھر پور تھا،یہ گمان ہونے لگ گیا تھاکہ کچھ ہونیوالا ہے اور پھر ۔۔وہ ہو بھی گیالیکن بدقسمتی سے جو ہوا وہ سوچنے والوں توقع کے بالکل بر عکس تھا۔ایک ــ ـگجراتی بابا‘‘آیا اور اُس نے قائد انقلاب کو صرف اتنا کہا کہ ’’ مٹی پائو‘‘ اور قائدِ انقلاب نے سخت سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے ’’ لشکرِ انقلاب‘‘کی امیدوں کے روشن چراغ پر ’’ مٹی پا دی‘‘۔’’تماشہ‘‘ ختم ہو گیا،’’مداری‘‘ غیر ملکی تھا اُس نے اپنی ڈُگڈگی اٹھائی اوراپنے ملک چلا گیااور تماشائی اپنے اپنے گھروں کو۔اِس بار اُس کی آمد میں زیادہ شور و غوغا شامل تھاکہ اب وہ جذبہ شہادت لئے آیا تھا،اس بار اُسکے انقلاب میں ’’شہدائِ بیریئرز‘‘ کا خون بھی شامل تھا لیکن شاید انقلاب اِس قوم کی قسمت میں ہی نہیں تھا ،انقلاب پنجاب پولیس کے متوقع’’ سلوک‘‘ کی تاب نہ لا سکا اور’’تمت بالخیر‘‘ ہو گیارہی سہی کسر گورنر پنجاب نے پوری کر دی اور ماچس کی تیلی سے بھی کم شعلہٗ انقلاب پر ’’ مٹی پا ‘‘ دی۔لیکن اُس کے حوصلے ابھی’’ پست ‘‘ نہیں ہوئے،انقلاب پارٹ 3کی تاریخ کا جلد اعلان کرے گا ۔خطرہ شریکِ کاروانِ انقلاب’’ گجراتی بابا‘‘ سے ہے کہ اگر پھرانہوں نے کہ دیا کہ ’’ مٹی پائو‘‘تو پھر انقلاب خطرے میں پڑ سکتا ہے لہٰذا’’ قائدِ انقلاب‘‘ کو چاہیئے کہ ’’گجراتی بابا ‘‘ کو اپنے انقلاب سے کم از کم ایک ہزار میل دور رکھیں اور چوہدری سرور سے دوری اختیار کریں۔ (شفقت حسین…لاہور)