نیشنل بینک آف پاکستان کے مظلوم پینشنروں کی فریاد

مکرمی! موجودہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پپش نظر تمام گورنمنٹ ملازمین/ پنشنرز کی تنخواہ میں پچاس فیصد اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 20 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن مورخہ 01-07-2010 سے جاری کر دیا ہوا ہے۔ نیشنل بینک گورنمنٹ آف پاکستان کا ہی ایک کھاتا پیتا ادارہ ہے۔ آپ اپنے ادارے کے بوڑھے کمر خمیدہ پنشنرز کی حالت زار پر رحم فرمائیں اور انہیں بھی جینے کا حق دیں اور مورخہ 01.07.2010 سے حکومت پاکستان کی پالیسی کو اپناتے ہوئے 20 فیصد پنشن میں اضافے کا نوٹیفکیشن بلا مزید تاخیر کے جاری فرمائیں۔ چونکہ بینک کے صدر/ چیئرمین اور بورڈ آف ڈائریکٹرز نے چپ سادھ رکھی ہے لہٰذا ہم نے اپنے پلیٹ فارم سے جناب صدر مملکت اور جناب وزیراعظم اسلامک ریپبلک آف پاکستان کو بذریعہ یادداشت مورخہ 17 ستمبر 2010ءاپیل کی ہے کہ از راہ کرم مداخلت فرمائیں اور بینک کے ناخداوں کو حکم صادر فرمائیں کہ نیشنل بینک کے پنشنرز کی پنشن میں اضافہ کا احساس اس لئے بیدار نہیں ہوتا کیونکہ موصوف آٹے دال کے بھاو سے بے نیاز ہیں۔ نیشنل بینک کے پنشنرز میں 20 فیصد کا اضافہ کرنے سے اس ادارے پر کوئی اتنا بڑا مال بوجھ نہیں پڑے گا۔ یہ بوجھ جملہ شاہ خرچیوں اور اربوں روپے کے قرضوں کی معافی کے مقابلہ میں رائی کے برابر بھی نہیں۔ (میر محمد ادریس ۔ صدر آل پاکستان نیشنل بینک ریٹائرڈ ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن سنٹرل آفس 32 مقدس پارک گلشن راوی لاہور)