لوڈ شیڈنگ کا حل

مکرمی! اس سال کے شروع میں جب وزیراعظم کی زیرصدارت چاروں صوبوں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی منتخب حکومتوں کے سربراہوں کا اجلاس منعقد ہوا تو بجلی بچت کیلئے متعدد فیصلے کئے گئے۔ ان فیصلوں میں ہفتہ میں دو چھٹیاں کرنے کے ساتھ ساتھ تمام مارکیٹیں بازار اور کاروبار8 بجے رات بند کر دینے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ ان فیصلوں سے لگ بھگ 1500 سے 1700 میگاواٹ بجلی بچا لی گئی لیکن رمضان شریف کے مہینہ میں کاروباری لوگوں اور تاجروں کو تھوڑی سی ڈھیل دی گئی کہ وہ 8 بجے کی بجائے 9 بجے تک دکانیں کھلی رکھیں۔ اس ضمن میں تمام تاجر تنظیموں نے ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے یہ وعدہ کیا کہ رمضان کے ختم ہوتے ہی وہ حسب سابق 8 بجے رات ہی تمام کاروبار بند کر دیں گے لیکن اب دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اب عید کو دو ماہ ہونے کو ہیں لیکن نہ تو بازار8 بجے بند ہو رہے ہیں اور نہ ہی کاروبار، اس صورتحال نے ایک بار پھر لوڈ شیڈنگ کا عذاب لا دیا ہے۔ اس وقت بجلی کی طلب اور رسد میں جو فرق ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ اگر ہماری تاجر برادری قومی مفاد کے پیش نظر8بجے شام دکانیں، بازار اور مارکیٹیں بند کرنا شروع کر دے تو یقین کیجئے کہ لوڈ شیڈنگ کے اس عذاب سے خود بخود جان چھوٹ جائے گی۔ (عبدالرحمن خواجہ35نسبت روڈ لاہور)