شرم ہم کو مگر نہیں آتی

مکرمی ۔ مورخہ 22-09-2010 روزنامہ نوائے وقت میں میرا ایک مراسلہ ذوالفقار چیمہ کے جانے کے بعد شائع ہوا جس میں میں نے اپنے بیٹے کےخلاف تھانہ سٹی وزیرآباد میں ایک پرچہ درج ہونے اور گرفتار کرنے کا بیان کیا۔ جو پرچہ درج کر کے گرفتار کیا گیا دو دفعہ پولیس تھانہ سٹی عدالت میں تحریراً اور زبانی بھی بیان دے چکی ہے کہ بے گناہ ہے۔ پھر گرفتاری کے بعد جو سلوک کیا گیا۔ اخباری تراشہ پڑھ کر ہی محترم DIG گوجرانوالہ نے مجھے طلب کیا اور پولیس کو بھی سخت سرزنش کی اور ایک ASP صاحبہ کو اُسی دن وزیرآباد جاکر انکوائری کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ ASP صاحبہ نے جو انکوائری کی اور جناب DIG صاحب نے جس طرح ایکشن لیا میں سو فیصد مطمئن ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر اعلیٰ افسران تک آواز پہنچائی جائے وہ ضرور انصاف کرتے ہیں لیکن ایک بات کا ضرور افسوس ہے کہ ہر آدمی کہتا ہے کہ پولیس ظلم کرتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ہم خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں میری پولیس کی انکوائری کے دوران وہ معزز لوگ تشریف لائے۔ بلکہ آج تک میرا اور میرے رشتہ داروں کا ناطقہ بند کر رکھا ہے کہ معاف کر دیں وہ غلطی تسلیم کرتے ہیں۔ انکوائری والے دن میرے خاص دوست بھی آنکھیں چرانے لگے کہ کہیں ساتھ چلنے کو نہ کہے سوائے چند مخلص لوگوں کے جنہوں نے میری حوصلہ افزائی کی کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں وگرنہ نام نہاد معززین نے مایوس ہی کیا ہے۔ پولیس مروا دیتی ہے۔میری مراد یہ ہے کہ اگر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے تو اسے روکیں بھی مت۔ کیا یہ پیشہ ور معززین پولیس سے جائز و ناجائز کام لیتے ہیں۔ اگر ظالم کو سزا مل جائے تو مزید ظلم رک جاتا ہے۔خدا کرے ہم قول و فعل سے بھی مسلمان ہو جائے۔
(محمد یوسف جنجوعہ .... سابق کونسلر بلدیہ وزیرآباد، الہٰ آباد .... 0300-8644755)