سرکاری کالجز کے مسائل کا حل

مکرمی! درج ذیل قابلِ عمل تجاویز سرکاری کالجز کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔-1 سارے صوبے کے تمام سرکاری کالجز میں تدریسی عملے کی تمام خالی سیٹوں (اسامیوں) کو جلداز جلد پُر کیا جائے اس سلسلے میں PPSC کو تمام مشتہر اسامیوں کو پُر کرنے کا پابند کیا جائے تاکہ کالج اساتذہ کی ہرگز کمی نہ رہے۔-2 صوبہ بلوچستان کی طرز پر 7 سالہ تجربہ کے حامل ہر سرکاری لیکچرار کو اسسٹنٹ پروفیسر پروموٹ کیا جائے۔-3 انفراسٹرکچر عمارت، کمرے، لائبریریاں، ایکویپڈ لیبارٹریز، کمپیوٹر لیبز، اے وی ایڈز، نیوز پیپرز، انٹرنیٹ، سائنٹیفک جرنلز، طبی سہولیات وغیرہ کی فوری فراہمی کو آسان طریقہ کار سے ممکن کیا جائے۔-4 میٹرک انگلش میڈیم لازمی قرار دی جائے تاکہ سرکاری کالجز میں داخلہ لینے والا اوسط یا اس سے بھی ذہانت والا اردو میڈیم طالبعلم یا طالبہ میڈیم آف انسٹرکشن انگلش ہونے کے باعث نہ تو فیل ہو اور نہ ہی کم نمبر لے، نیز فرسٹ ڈویژنرز کو ہی میرٹ پر داخلہ دیا جائے۔-5 صوبے بھر کے تمام سرکاری کالجز میں سٹوڈنٹس کو سکالرشپس دیئے جائیں ہر غریب طالبعلم یا طالبہ کو زکوٰة یا وظائف (Stipends) دیئے جائیں کیونکہ ان سٹوڈنٹس کی کثیر تعداد انتہائی غریب ہوتی ہے۔ یہ پیچارے کالج ٹائم کے بعد اکیڈمی کی بجائے ورک پلیس پر جاتے ہیں اور مزدوری سے پیٹ پالنے پر مجبور ہیں۔-6 دوردراز سے آنے والے طلباءو طالبات کو کالج ٹرانسپورٹ سسٹم کی عدم دستیابی کے باعث کالج پہنچنے اور واپس گھر جانے میں بےشمار دقتوں کا سامنا ہے۔-7 سیکنڈ شفٹس کےلئے علیحدہ اساتذہ کی تعیناتی کا اختیار پرنسپلز کو دیا جائے جبکہ فنڈز کی فوری ترسیل حکومت کی ذمہ داری ہو۔-8 سرکاری کالجز کو ہر قسم کے دباﺅ سے محفوظ بنایا جائے۔(سرفراز بخت .... DHA لاہور)