ایک صحافی جو آپ کی توجہ کا طلبگار ہے!!!

مکرمی! مذکورہ صحافی کا نام لینے سے اس لئے قاصر ہوں کہ اس ضعیف اور بزرگ صحافی کی وضع داری اور سفید پوشی پر کوئی آنچ نہ آئے اور ان کے اہل خانہ کی سفید پوشی اور عزت نفس کا بھرم بھی قائم رہے۔
مذکورہ صحافی نے اپنے صحافتی کیرئر کا آغاز روزنامہ مشرق لاہور سے شروع کیا اور 12 برس تک صحافتی خدمات انجام دینے کے بعد اس وقت تک آن ڈیوٹی تھا جب تک روزنامہ مشرق لاہور کے پریس کو سیل کرنے کا سرکاری حکم نامہ جاری نہ ہوا۔ اس بے نام صحافی کے ساتھ ان کے والد بھی ان دنوں روزنامہ مشرق لاہور میں ہی خدمات انجام دے رہے تھے ان کے والد نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز مولانا ظفر علی خاں کے روزنامہ ”زمیندار“ سے کیا۔ بعدازاں ملک کے تمام بڑے اخبارات سے وابستہ رہے اور ساتھ ہی ریڈیو پاکستان کے براڈ کاسٹر کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ اپنے ساٹھ سالہ صحافتی سفر میں انہوں نے نہ صرف صحافت کے میدان میں بے مثال اور ناقابل فراموش خدمات انجام دیں بلکہ ایک درجن سے زائد کتب بھی تصنیف کیں۔ مشرق کی بندش کے بعد جہاں یہ دونوں باپ بیٹا بیروزگار ہو گئے ہیں وہیں ان کی آمدنی کا مستقل ذریعہ بھی ہمیشہ کےلئے بند ہو گیا لیکن انہوں نے اس طویل بیروزگاری کی حالت میں بھی ہمت نہیں ہاری اور 9 عدد نادر دینی کتب تصنیف کیں۔
اس وقت یہ لوگ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں نہ ان کی کوئی زمین ہے اور نہ جائیداد ایسے حالات میں گھریلو اخراجات کو پورا کرنے کےلئے مذکورہ بے روزگار صحافی کئی سالوں سے مختلف لوگوں سے قرض حاصل کر کے اپنا اور اپنے ضعیف والد بیوہ بہن اور ان کے بچوں کی کفالت کرنے میں مصروف ہے اور اب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ یہ بے بس اور لاچار صحافی پندرہ لاکھ روپے کا مقروض ہو چکا ہے اور جن لوگوں کا قرض دینا ہے وہ ان کی جان کے درپے ہیں۔ کبھی ان کے پاس مکان کا کرایہ ادا کرنے کےلئے پیسے نہیں ہوتے اور کبھی یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی مسئلہ بنی ہوتی ہے۔ نادار اور مستحق صحافیوں کےلئے جرنلسٹ ویلفیئر فنڈ تو بنائے جاتے ہیں مگر کتنے ایسے نادار اور مستحق وضع دار صحافی ہیں جن تک یہ فنڈ پہنچتے ہیں۔ اور کیا ہمارے آج کے حکمرانوں، دولت مند سیاستدانوں، ملک کے امیرترین گھرانوں اور ملک بھر کی صحافتی تنظیموں کےلئے ایسے نادار بے بس مفلوک الحال صحافیوں کے گھرانوں کے حوالے سے کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ اندرون ملک اور بیرون ملک متمول پاکستانی گھرانے اپنے اس بے بس بھائی کی مدد کےلئے میدان میں آجائیں تو شاید ایک گھر برباد ہونے سے بچ سکتا ہے۔ اگر کوئی مخیر آدمی اس بے بس، بے نام صحافی سے رابطہ کرنا چاہے تو وہ اس نمبر پر ان سے رابطہ کر سکتا ہے۔ 0322-4164181 (محمد علی خواجگی .... لاہور)