چار سالہ بی ایس پروگرام اور ہمارے طلبائ

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! انٹر میڈیٹ میں پیش آنے والی پیچیدگیوں سے پریشان طلباءتھرڈ ایئر میں پھنس گئے ہیں گزشتہ چند سالوں سے سرکاری کالجز میں شروع ہونے والے بی کام آنرز پروگرام میں داخلہ لینے والے طلباءکا مستقبل داﺅ پر لگ گیا ہے خادم اعلیٰ پنجاب تعلیم سمیت تمام ترقیاتی کاموں کو بڑی پھرتی سے انجام دے رہے ہیں مگر نہ جانے کونسی ایسی قوتیں ہیں جو اندر ہی اندر سسٹم کو فلاپ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، کچھ ناسمجھ لوگ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ چار سالہ ڈگری پروگرام اس لئے شروع کیا گیا کہ طلباءنہ صرف کامیاب ہو سکیں بلکہ سرکاری نوکریاں بھی نہ لیں سکیں، حال ہی میں بی کام آنرز کا رزلٹ آیان جس میں تقریباً 80 فیصد طالب علم فیل ہوئے ان کالجوں میں ایم اے او کالج، گورنمنٹ سائنس کالج وحدت روڈ سر فہرست ہیں، طلباءکو مختلف رائٹرز کی کتابیں بدل بدل کر لگوائی گئیں جس کا شاید کوئی ”خاص مقصد بھی تھا“ مگر ساری محنت کے باوجود ہونہار طلباءکے ”پلے کچھ نہ پڑا“ طلباءاتنے برے برتاﺅ کے بعد سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے۔ پنجاب یونیورسٹی کا دروزہ کھٹکھٹایا مگر وہاں سے جواب ملا کہ ہم نے جو آﺅٹ لائن بھجوائیں تھیں اسی کے مطابق امتحان لیا گیا۔ بیچارے طلباءجو پہلے ہی نیت کے ولی ہیں گزشتہ کئی ماہ سے موج مستی کرکے گھر واپس چلے جاتے ہیں۔ بیس فیصد طلباءجو پاس ہوئے افواہوں نے ان کے پاﺅں بھی اکھاڑ دیئے ہیں اور وہ بھی کسی دو سالہ پروگرام میں داخلہ لینے کے لئے دوسرے کالجز کے چکر لگا رہے ہیں۔ اگر ”خدانخواستہ“ کسی کا میرٹ لسٹ میں نام آہی گیا ہے تو سابقہ کالج رخصتی کا سرٹفکیٹ دینے سے قاصر ہے جب تک سرٹیفکیٹ ملے گا تب تک داخلے بند ہو چکے ہوں گے اس تمام مسئلے بارے اگرچہ تعلیم کے ٹھیکیداروں نے ایک کمیٹی کے تحت یہ فیصلہ کیا کہ پہلے سمسٹر میں فیل ہونے والے دوبارہ امتحان دے سکتے ہیں لیکن یہ خادم اعلی سے درخواست ہے کہ اس امر کا نوٹس لیں کہ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے والے کیوں زیور چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں یہ کون لوگ ہیں ان کی نشاندہی ہونے کے بعد ان کے خلاف تادیبی کارروائی ہونی چاہیے۔
(غلام محی الدین۔ لاہور)