پاکستان کے قدرتی وسائل کے باوجود معاشی ابتری کیوں؟

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی!پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے مطابق پاکستان میں تھر کوئلے کے 175 ارب ٹن ذخائر موجود ہیں جو کہ 618 ارب بیرل خام تیل کے برابر ہے۔ مثلاً سعودی عرب 260 ارب بیرل، کینیڈا 179 ارب بیرل، ایران 136 ارب بیرل، عراق 115 ارب بیرل، کویت 99 ارب بیرل ہے۔ اس کے باوجود پاکستان مٹر کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرے خوبانی، کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سے چوتھے، پیاز، دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے، آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں، چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں، گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں، چائے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں نمبر پر اور مجموعی زرعی لحاظ سے 25 ویں نمبر پر ہے۔ کوئلے کی ذخائر سے چوتھے، تانبے کے ذخائر کے اعتبار سے ساتویں، سی این جی میں پہلے نمبر پر ہونے کے باوجود ملک میں سی این جی، بجلی، پٹرول اور ڈیزل نہ ہونے کے برابر ہیں کیوں؟ ملک کی نااہل حکمرانی اور لامحدود کرپشن کی ؒبدولت ہماری معاشی ابتری، پسماندگی اور لاقانونیت ہی ہمارا مقدر کیوں؟(عابد شریف چدھڑ)