میٹھا زہر

ایڈیٹر  |  مراسلات

 مکرمی! آج کل انٹرٹینمنٹ اور کارٹونز کے نام پر چھوٹے چھوٹے معصوم ذہنوں کو میٹھا زہر دیا جا رہا ہے اور اس زہر کی فراہمی بلا تعطل جاری ہے۔کارٹون چینلز پر کھلے عام ہندو مت کی تبلیغ ہو رہی ہے اور تاریخی کرداروں کو مسخ کر کے اپنے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اور ان نام نہاد” کڈز انٹر ٹینمنٹ چینلز“ پر اشتہارات کی آڑ میں جو کچھ بچوں کے ذہنوں میں ڈالا جا رہا ہے اس کا تو خیر ذکر ہی کیا۔ پنجاب حکومت نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے بالآخر تھک ہار کر اپنی رپوٹ پیش کر دی ہے اور معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کی انسداد ا ور روک تھام کے لئے کچھ نہیں کر سکتے یہ” پیمرا“ کا کام ہے۔ یہاں قانون کی بے بسی پر بھی رونا آتا ہے کہ جب تسلیم کیا جا رہا ہے کہ کارٹونز کے ذریعے ہندو کلچر کوفروغ دیا جا رہا ہے اور بچے اس کا اثر بھی لے رہے ہیں پھر بھی اپنے بچوں کو اس آگ میں کھیلنے دیا جا رہا ہے محض اس بنیاد پر کہ یہ ہمارا دائرہ اختیار سے باہر ہے۔’پاکستان الیکڑانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ‘(پیمرا) نامی اس ادارے کو یہ تو پتہ ہو گا کہ کس چینل پر، کس وقت ، کونسے پروگرام میں ، کس اینکر نے وزیر اعظم کے خلاف بات کی، کس نے صدر کو برا بھلا کہا اور کس نے حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا مگر شاید ہی اس کا علم ہو کہ انٹر ٹینمنٹ کی آڑ میں بچوں کو کیا دکھایا جا رہا ہے ۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی مبینہ غفلت سے والدینکی ذمہ داری کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ میری وفاقی حکومت اور پیمرا سے بھی گزارش ہے کہ اس قوم کے نونہالوں اور ملک کے روشن مستقبل کی خاطر ہی اپنی حقیقی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور ان بے مہار چینلز کو لگام ڈالیں جو معصوم ذہنوں میں تفریح کے نام پر زہر کو پروان چڑھا رہے ہیں۔(اویس حفیظ ۔ شعبہ علومِ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی لاہور)