صفائی نصف ایمان ہے

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی!صفائی کی چونکہ اسلام مےں بہت اہمےت ہے اسی لئے اسے ایمان کا لازمی جزو قرار دےا گےا ہے ۔ صفائی کی اہمےت اس بات سے ثابت ہے کہ اسے ایمان کا نصف حصہ قرار د ےا گےا ہے۔ اےک صاف ستھرے ذہن مےں ہی تعمیری سوچ اور اچھے خےالات جنم لےتے ہے۔ پاکستان اےک اسلامی رےاست تو ہے مگر اس مےں اسلامی قوانین کے علاوہ سبھی کچھ ملتا ہے۔ نظم و ضبط اور صفائی نا پےد ہے۔ جہاں ملک کے بڑے شہروں مےں جا بجا گندگی اور کوڑا کرکٹ کے ڈھےر نظر آتے ہےں وہاں چھوٹے شہروں اور دےہات کا ذکر ہی کےا۔  جابجا گندگی کے ڈھےر اور کوڑا کرکٹ دےکھنے کو ملتا ہے۔ آدھی سے زےادہ سڑک گندگی اور غلاظت سے بھری دکھائی دےتی ہے جس کی وجہ سے ٹرےفک جام ہونا معمول کی بات ہے۔ اےسے مےں ٹرےفک جام، گاڑےوں کا دھواں، ہارن کا شور اور تعفن ذدہ ماحول اور وقت کا زےاں کسی بھی شہری کو اذےت مےں مبتلا کرنے کےلئے کافی ہے۔ غلاظت بھری سڑکےں جہاں سڑک پر چلنے والوں کےلئے پرےشانی کا باعث ہےں وہےں وہاں کے مکینوں کےلئے بھی بیماری اور اذےت کا سبب ہےں۔ گندا اور تعفن ذدہ ماحول جہاں ذہنی کوفت تو دےتا ہی ہے ساتھ ہی وبائی بیمارےاں پھےلانے مےں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔کےا صفائی ستھرائی صرف اور صرف حکومت اور اعلیٰ عہدے داران کی ذمہ داری ہے؟؟؟ کےا شہرےوں کی اس سلسلے مےں کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟؟ حکومت سے زےادہ شہرےوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی سڑک، اپنے محلے اور اپنے علاقے کو صاف ستھرا رکھےں۔ اپنے گھر کو صاف ستھرا کرنے کے بعد کچرا اور کوڑا گھر سے باہر اےسے ہی نہ پھےنک دےں بلکہ مناسب جگہ ےا کچرا کنڈی مےں ٹھکانے لگائےں۔ اپنے دروازے پہ پڑا ہوا کچرا کسی دوسرے کے گھر کے آگے نہ پھےلائےں۔ صاف ستھرا ماحول ہماری ذمہ داری ہے۔ کوئی وزیر ےا اعلیٰ عہدے دار جھاڑو لے کر ہمارا محلہ صاف کرنے نہیں آئے گا۔اس لئے ہمےں چاہئے کہ حکومتی اہل کاروں کو کوسنے کے بجائے اپنا قبلہ درست کرےں، مثبت سوچ اپنائےں۔ (عائشہ ۔آر۔ شےخ)