بھارت کے گن گانے والے چوہدری شجاعت سے سلوک کو دیکھیں

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی ! میں آپ کے م¶قر روزنامہ کی وساطت سے مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے بھارتی حکومت کے حساس اہلکاروں کی جانب سے ان کو درگاہ اجمیر شریف میں دستاویزات دکھانے کے بہانے پوچھ گچھ کرنے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ بھارت سے سفارتی سطح پر باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرائے۔ چوہدری شجاعت حسین پاکستان کے سابق وزیراعظم اور موجودہ پارلیمنٹ میں سینیٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔ بھلا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ اور ان کے وفد کے بارے بھارتی حکومت اور وہاں کی وزارت خارجہ اور دیگر اداروں کو علم نہ ہو بغیر دستاویزات اور ویزہ کے بغیر بھلا کوئی فرد کسی کے ملک جا سکتا ہے۔ یہ بھارت کا اپنے ملک میں خاص کر پاکستانیوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے کا پہلا واقعہ نہیں ہے مگر دوسری جانب پاکستان میں جو طبقات بھارت کے گن کے گیت اور امن کی آشا کے اٹھتے بیٹھتے تذکروں میں دیے جلا رہے ہیں انہیں بھارت کا بھیانک چہرہ نظر نہیں آتا قوم کو تو نظر آ رہا ہے۔ بھارت پاکستان کا ازل سے ابد تک دشمن ہے۔ ہند بنیے نے پاکستان کے وجود کو آج تک دل سے تسلیم نہیں کیا ہے۔ بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھانے والے اب یوٹرن لے لیں۔ بھارت کے ساتھ تجارت ، کشمیروں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔ چوہدری شجاعت حسین صاحب آپ پہلا قدم اٹھائیں اور بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل نہ کئے جانے تک بھارت سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کریں۔
(چوہدری فرحان شوکت ہنجرا ۔ لاہور، 0321-4291302)