’’دُکھ کی کہانی‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
’’دُکھ کی کہانی‘‘

ُُمکرمی!ڈسکہ میں ہونے والے واقعہ کو اگرپوری گہرائی سے دیکھا جائے تو بہت کچھ سامنے آجاتا ہے۔بہت سے لوگ وکلاء کو بھی برابر کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔کیا پولیس کو قانون اجازت دیتا ہے کہ کسی عادی مُجرم کو بھی ہلاک کرنے کی نیت سے گولی مار دی جائے۔پھر ایک گولی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ڈسکہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ایک سے زائد گولیا ں ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کے صدر رانا خالد عباس اور نائب صدر عرفان چوہان کو ماری گئیں۔بہرحال پھر وکلاء کو یہ کیوں زیب دیتا ہے کہ وہ پولیس اہلکاروں پر تشدد کریںپولیس کی گاڑیوں پر پتھرائو کریںاور انھیں نذر آتش کریں۔ہر شخص اپنی شکایت کا فوری ازالہ چاہتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا ایک رپورٹ درج کروانے کے سلسلہ میں تھانے گئے وہاں انکی پولیس کے ڈپٹی سُپرنٹنڈنٹ (ڈی ایس پی) سے تلخ کلامی ہو گئی ۔انھوںنے ڈی ایس پی کے دفتر میں پڑے ہوئے میز پر زور سے ہاتھ مارا تومیز پر موجود شیشہ ٹوٹ گیا۔ انھوں نے ڈی ایس پی کا موبائل فون اُٹھا کر دیوار پر دے مارا ۔ اگر ذوالفقار مرزا وزیر داخلہ ہوتے تو وہ کسی اور شخص کی اس طرح کی حرکت کو برداشت کر لیتے؟ہمارے دُکھ کی کہانی یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان،منتخب نمائندے،ذرائع ابلاغ،ڈاکٹر،وکلاء ہر فیصلہ اپنی خواہش اور مرضی کے مطابق فی الفور چاہتے ہیں۔یہ رُجحان مسائل میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔معاشرے کے وہ لوگ جو زیردست ہوتے ہیںوہ تعلیم یافتہ ،با اثر اور اہم افراد دیکھا دیکھی بالا دست بننے کی کوشش کرتے ہیں۔سماجی رویوں کے ماہر افراد حتمی رائے دے سکتے ہیں کہ ایسے رویوں کہ کسی معاشرہ پر کس قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کس طرح کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔اس کے لئے فوری طور پر تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کو روزانہ کی بنیاد پر تربیت دینے کی ضرورت ہے اور ان کو قانون پر عملدرآمد ،درگذر اور برداشت کے فوائد اور نقصانات سے آگا ہ کرنا چاہئے۔ (سلیم احمد اعوان شیخو۔سیالکوٹ)